تہران (لارڈ میڈیا): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے، اور جب تک اسرائیلی افواج جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے لبنانی علاقوں سے واپس نہیں جاتیں، جنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔ عباس عراقچی نے غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس کے مکمل خاتمے کا ایک لازمی اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلا نہیں کرتیں، جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے کسی بھی مزید حملے کو ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ جمعہ کو جنیوا میں دونوں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہان ملیں گے۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئیں۔ صدر ٹرمپ نے جی 7 ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر مکمل دستخط ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کے تحت اپریل میں اعلان کردہ نازک جنگ بندی میں مزید 60 روز کی توسیع کی جائے گی۔ معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو بھی دوبارہ کھول دیا جائے گا، جسے ایران نے فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مؤثر طور پر بند کر دیا تھا۔


