چین آسٹریلیا یوتھ ایکسچینج پروگرام (سی اے پی وائے ای) کی افتتاحی تقریب بدھ کے روز آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں واقع چینی سفارتخانے میں منعقد ہوئی جس میں دونوں ممالک کی جامعات اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔
آسٹریلیا میں قائم چینی سفارتخانے اور چین کی وزارتِ تعلیم کے تحت چائنہ سینٹر فار انٹرنیشنل پیپلز ٹو پیپلز ایکسچینج کی مشترکہ کاوش سے شروع کئے گئے اس پروگرام کا مقصد چینی اور آسٹریلوی رہنماؤں کے اس اہم اتفاقِ رائے کو عملی شکل دینا ہے جس کے تحت مزید آسٹریلوی نوجوانوں کو چین کے مطالعاتی دوروں پر مدعو کیا جائے گا۔
تقریب کے دوران شرکاء نے چین کی مختلف روایتی ثقافتی سرگرمیوں کا تجربہ کیا جن میں خطاطی، پیپر کٹنگ، لکیر والے پنکھوں کی پینٹنگ اور قدیم کھیل “پِچ پاٹ” شامل تھے۔ یہ قدیم کھیل دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی تاریخ رکھتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیرِ تعلیم وانگ جیا یی نے کہا کہ چین اور آسٹریلیا کے درمیان طلبہ کی آمدورفت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے اس پروگرام کو حقیقی انسانی روابط کے ذریعے ثقافتی اختلافات کو کم کرنے کی جانب ایک جدت پسندانہ قدم قرار دیتے ہوئے آسٹریلوی نوجوانوں کو دعوت دی کہ وہ چین آئیں اور ایک ایسے ملک کا تجربہ کریں جو متحرک، متنوع اور زندگی سے بھرپور ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): شیاؤ چِیان، چینی سفیر برائے آسٹریلیا
’’میں آج یہاں موجود نوجوان دوستوں سے چند الفاظ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ دونوں ممالک کا مستقبل ہیں، ثقافتی ورثے کے امین ہیں اور چین اور آسٹریلیا میں دوستی کے سفر کو آگے بڑھانے والے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ تہذیبوں کے ایک دوسرے سے سیکھنے کے عملی نمائندے، دوستی کے پل بنانے والے اور عملی تعاون کے علمبردار بنیں گے۔ آپ اپنی مفید صلاحیتوں اور دانشمندی کو چین اور آسٹریلیا کے درمیان دوستی اور تعاون کی مشترکہ ترقی کے لئے استعمال کریں گے۔ ہم آسٹریلیا کے تمام شعبوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ چین آسٹریلیا دوستی کے بیج نوجوان نسل کے دلوں میں جڑ پکڑیں اور آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے رہیں۔‘‘
اس سال کے پروگرام میں ڈریگن بوٹ مقابلے، موسیقی کے تبادلے اور مطالعاتی دورے شامل ہیں جن میں سمندری ماحولیات، مصنوعی ذہانت، روایتی چینی طب، مٹی کے برتن سازی اور مارشل آرٹس جیسے شعبے شامل ہیں۔ اس پروگرام سے دونوں ممالک کے شرکاء کو گہرے تجربات حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
نوبل انعام یافتہ ماہر فلکیات برائن شمٹ کی رائے میں عوامی روابط چین آسٹریلیا تعلقات کی بنیاد ہیں اور نہایت ضروری ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): برائن شمٹ، نوبل انعام یافتہ ماہر فلکیات
’’ہم زیادہ سے زیادہ روابط قائم کر کے دراصل مستقبل کے لئے ایک مضبوط نیٹ ورک تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورک ضرورت پڑنے پر دنیا کے کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکے گا یا کرہ ارض پر انسانیت کو درپیش بڑے مسائل کے حل میں ہماری مدد فراہم کرے گا۔‘‘
چین کے پہلے دورے کی تیاری کرنے والوں میں یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ کے طالبعلم اور یونیورسٹی کی روئنگ کلب کے رکن جُوڈ شِمر بھی شامل ہیں۔ وہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ ایک تبادلہ پروگرام کے تحت چین کا سفر کریں گے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): جُوڈ شِمر، طالبعلم، یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ
’’جو چیز اس پروگرام میں شامل ہونے کے لئے میرے تیار ہونے کی بڑی وجہ بنی وہ میرے لئے ایک ایسے ملک کا دورہ کرنے کا موقع تھا کہ جہاں میں شاید کبھی نہ جا پاتا۔ میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں اپنی زندگی میں کبھی چین جا سکوں گا۔ اس دورے میں ایک ایسی مختلف ثقافت سے براہِ راست جڑنا جو آسٹریلیا سے بہت ہی زیادہ مختلف ہے میرے لئے ایک نہایت دلچسپ تجربہ ہوگا۔‘‘
کینبرا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


