کراچی (لارڈ میڈیا): سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ادارے میں 20 ارب روپے سے زیادہ کی کرپشن ہوئی ہے اور وہ اس معاملے میں دباؤ قبول نہیں کر رہے بلکہ ذمہ داروں کو سزا دلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
کراچی آرٹس کونسل میں آل پاکستان ویمن ورکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ حکومت نے ہوم بیسڈ ورکرز کو تسلیم کیا ہے اور ان کا بھی ایک ادارے سے برطرفی کا تجربہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی دادی دکان چلاتی تھیں اور ان کے والد اور خاندان کو تعلیم دلائی، آج خواتین کے مردوں کے ساتھ کام کرنے پر خوشی ہوتی ہے۔
انہوں نے 2016 میں مشیر محنت کے طور پر ماہانہ 5 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ چوروں کو ان کی جگہ واپس نہیں بٹھا سکتے اور ان کی لیڈرشپ مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے میں عورتوں کو مالکانہ حقوق دیے جا رہے ہیں اور ہوم بیسڈ ورکرز کے سوشل سکیورٹی کارڈز کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش جاری ہے۔


