اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے اور اپوزیشن کو اس کی تعریف کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پچاس ہزار سے کم تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں ہے جبکہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک کی تنخواہ پر صرف ایک فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
عطا تارڑ نے اجلاس کے دوران بتایا کہ ملک ڈیفالٹ ہونے کے خدشات تھے تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات سے ملکی معیشت میں استحکام پیدا ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایکسچینج ریٹ کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور کاروباری حضرات کی ایل سیز کھل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 38 فیصد تھی، مگر اب اس میں کمی لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عطا تارڑ نے سابقہ حکومت پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو پاکستان کے خلاف خط لکھے تاکہ ملک دیوالیہ ہو جائے۔
عطا تارڑ نے ایف بی آر کی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان اصلاحات کے ثمرات ہر شہری تک پہنچیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے ریکور کیے گئے ہیں اور وزارت خزانہ و ایف بی آر نے 800 ارب روپے کی وصولی کی ہے۔


