پشاور (لارڈ میڈیا): پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پارٹی اعلامیہ کو پارٹی کے اندر ڈکٹیٹر شپ قرار دیا ہے۔ علی امین کا کہنا ہے کہ ماضی میں ان کے دور میں بھی پارٹی کے صوبائی صدور نے ان کی حکومت کے خلاف باتیں کیں، لیکن کبھی اعلامیے جاری نہیں کیے گئے۔
علی امین گنڈا پور نے پارٹی پارلیمانی واٹس ایپ گروپ میں ایک آڈیو میسج کے ذریعے کہا کہ اختلاف رکھنے والے ارکان کو دھمکیاں نہ دی جائیں، بلکہ ان کے تحفظات کو دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر شپ والا رویہ معاملات کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
پی ٹی آئی اعلامیہ کے مطابق پارٹی معاملات میڈیا پر اٹھانے والے ارکان سے رابطہ نہ کیا جائے۔ دوسری جانب مشتاق غنی نے کہا کہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ صرف بانی پی ٹی آئی کا نام لیا۔ ادریس خٹک نے کہا کہ نوٹیفکیشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے لیے آواز اٹھانا جرم بن چکا ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے ناراض ارکان کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔


