تہران (لارڈ میڈیا): ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ قریب آنے کے باوجود آبنائے ہرمز میں دونوں ممالک کے درمیان نئی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ دونوں فریق ابتدائی معاہدے پر متفق ہو چکے ہیں اور اگلے چند دنوں میں دستخط متوقع ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ معاہدے میں تبدیلیاں ممکن ہیں، مگر یہ عارضی سمجھوتہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران تنازع میں مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں ٹریفک کا کنٹرول برقرار رکھیں گے۔
امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی طرف بڑھنے والے ایران کے متعدد ڈرونز کو مار گرائے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ یہ ڈرونز تجارتی ٹریفک کے لیے خطرہ تھے اور سینٹرل کمانڈ نے گزرگاہ کو بحری آمدورفت کے لیے کھلا قرار دیا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق، سیریک بندرگاہ اور قشم جزیرے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جو ایرانی فورسز نے بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی تھی۔
معاہدے کی تفصیلات کے مطابق، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا، امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہوگی، اور ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت بعد میں ہوگی۔ امریکی انتظامیہ کے اہلکار نے کہا کہ معاہدہ ٹرمپ کے مقاصد کو پورا کرتا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر 60 روزہ مذاکرات کیے جائیں گے اور امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ ہوگا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جوہری پروگرام کا خاتمہ قبول نہیں کرتا۔


