مجسم مصنوعی ذہانت کی چینی کمپنی ایجی بوٹ نے منگل کے روز انڈونیشیا میں اپنے شراکت داروں کی پہلی کانفرنس منعقد کی ہے۔ کانفرنس کمپنی کی طرف سے انڈونیشیا میں اپنی منڈی کی توسیع کا باقاعدہ آغاز تھا۔ اس موقع پر مختلف انسان نما روبوٹس اور مقامی حل پیش کئے گئے جنہیں سرکاری حکام اور صنعتی نمائندوں کی خاص توجہ ملی۔
انڈونیشیا کے نائب صدر کے خصوصی نمائندے احمد ادھتیا نے کہا کہ مستقبل پہلے ہی آ چکا ہے اور روبوٹکس ٹیکنالوجی اب کوئی دُور کا تصور نہیں رہی بلکہ یہ تیزی سے روزمرہ زندگی کا حصہ بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں روبوٹکس کے آنے والے دور کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ توقع ہے کہ ایجی بوٹ کمپنی انڈونیشیا کی انسان نما روبوٹ کی صنعت میں قائدانہ کردار ادا کرے گی اور ملک کی تکنیکی و سماجی ترقی میں اپنا مثبت حصہ ڈالے گی۔
انڈونیشیا کی وزارت مواصلات اور ڈیجیٹل امور کے مصنوعی ذہانت اور نیو ٹیکنالوجی ایکوسسٹم کی ڈائریکٹر اجو وِدیا ساری نے امید ظاہر کی کہ ایجی بوٹ سائنسی تحقیق میں تعاون اور ہنر کی ترقی کے ساتھ ساتھ صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے درمیان مشترکہ جدت کو فروغ دینے میں بھی مدد دےگی۔
تخلیقی معیشت کی وزارت کے ڈائریکٹر ڈینڈی یودھا فیریاوان نے کہا کہ ایجی بوٹ کی انڈونیشیا میں آمد نہ صرف جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعات لائے گی بلکہ علم کی منتقلی اور ہنر مند افرادی قوت کی تربیت میں بھی معاون ثابت ہوگی۔
ایجی بوٹ کے مشرق وسطیٰ اور ایشیا پیسیفک خطےکے صدر ڈینگ فینگ نے کہا کہ انڈونیشیا نہ صرف آسیان کی سب سے بڑی معیشت ہے بلکہ عالمی سطح پر مجسم مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لئے ایک نہایت متحرک اور اسٹریٹجک منڈی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی انڈونیشیا میں اپنا روبوٹ ایز اے سروس (آر اے اے ایس) ماڈل متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ مقامی سطح پر تیار کردہ حل کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں اس کے استعمال کو بھی وسعت دے گی۔
انڈونیشیا نے حالیہ برسوں میں اپنی ’’میکنگ انڈونیشیا 4.0‘‘ حکمت عملی کو آگے بڑھایا ہے جس میں مصنوعی ذہانت کو ترقی کے لئے ایک ترجیحی شعبے کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
کانفرنس کے دوران متعدد انسان نما روبوٹس نے خودکار حرکت، انسان اور مشین کے درمیان تعامل اور مختلف کاموں کی انجام دہی کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی مصنوعات ایک مربوط نظام پر مبنی ہیں جس میں حرکت کی ذہانت، تعاملاتی ذہانت اور عملیاتی ذہانت کو ہم آہنگ کیا گیا ہے جبکہ اس کے استعمالات صنعتی پیداوار، تجارتی خدمات، سائنسی تحقیق اور تعلیم کے شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔
جکارتہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


