اسلام آباد (لارڈ میڈیا): پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا جبکہ جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، یہ بات وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے کی تقریب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں معیشت نے عالمی اور مقامی چیلنجز کے باوجود بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ زرعی شعبے میں 2.89 فیصد اور بڑی صنعتوں میں 6.1 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے ڈیجیٹل شعبے کی 7.5 فیصد نمو اور خدمات کے شعبے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر جون تک 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس محصولات میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ زرعی قرضوں میں 15 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی تا مارچ زرعی شعبے کے لیے 2162 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے گئے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھا کر 722.5 ارب روپے کر دیا گیا ہے تاکہ غریب خاندانوں کی مدد کی جا سکے۔ انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کو ملکی مفاد میں قرار دیا۔


