تہران (لارڈ میڈیا): امریکا نے بدھ کی رات ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ تہران، قیشم، بندرعباس، سیرک اور میناب میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی سینٹ کام نے کہا ہے کہ ایران میں ریڈار سسٹم اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کی وجہ امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرات کو بتایا گیا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی فوج آمنا سامنا ہو گئی ہیں۔ پاسداران انقلاب نے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ کویت، اردن، بحرین اور عراقی شہر اربیل میں بھی امریکی اہداف پر حملے کیے گئے۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے بتایا کہ خاتم الانبیا کمانڈ نے کہا ہے کہ نئے امریکی فضائی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا اور یہ اب مکمل طور پر بند ہے۔
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر حملے روک دیے جائیں گے، تاہم ایران نے فوری طور پر اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سخت ردعمل کے بعد امریکہ حملے روکنے پر مجبور ہوا۔


