برسلز (شِنہوا) یورپی کمیشن نے روس کے خلاف پابندیوں کے 21 ویں پیکج کی تجویز پیش کی ہے جس میں توانائی، مالیاتی خدمات، کرپٹو، تجارت اور پہلی بار ماہی گیری کے شعبے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لی یین نے مجوزہ پیکج کا اعلان کیا۔
یورپی کمیشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق مجوزہ اقدامات میں تیل کی قیمت کی حد کے خودکار ایڈجسٹمنٹ کے نظام کو آئندہ جنوری تک معطل کرنا شامل ہے، جس سے تیل کی منڈیوں کو مستحکم ہونے کا موقع ملے گا جبکہ روسی آمدنی پر دباؤ بھی برقرار رہے گا۔
تجویز کے تحت مزید 30 جہازوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا، جس سے فہرست میں شامل جہازوں کی مجموعی تعداد 632 سے بڑھ جائے گی۔ پہلی بار ان جہازوں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا جائے گا جو روس کے "شیڈو فلیٹ” کو معاون خدمات فراہم کرتے ہیں، جن میں ایندھن بھرنے کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ روسی تیل کی تجارت یا پراسیسنگ میں شامل بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور ریفائنریوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ روس کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے ٹینکرز کی فروخت بھی محدود کی جائے گی۔
مالیاتی اور کرپٹو شعبے سے متعلق اقدامات کے تحت یورپی کمیشن مزید 31 روسی بینکوں پر لین دین کی پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ تیسرے ممالک میں موجود 20 بینکوں، کرپٹو کمپنیوں، پلیٹ فارمز اور تیل کے تاجروں کو بھی ان پابندیوں کے دائرے میں لانا چاہتا ہے۔
مجوزہ پیکج میں تجارتی شعبے میں روس کے فوجی و صنعتی شعبے میں استعمال ہونے والی اشیاء اور ٹیکنالوجی، نیز ڈرون سے متعلق آلات کی برآمدات پر نئی پابندیاں شامل ہیں۔
یورپی کمیشن نے تقریباً 6 کروڑ یورو (6 کروڑ 94 لاکھ امریکی ڈالر) مالیت کی بعض درآمدی اشیاء پر پابندی کی تجویز بھی دی ہے، جن میں بعض دھاتیں اور گاڑیوں کے پرزے شامل ہیں تاکہ روسی درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پہلی بار یورپی یونین روس کے ماہی گیری کے شعبے کو بھی نشانہ بنائے گی۔ اس سلسلے میں مچھلی کی بعض مصنوعات کی درآمدات پر سخت پابندیاں اور بعض دیگر مصنوعات بشمول کاڈ مچھلی کی درآمد پر مکمل پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔
ارسولا وان ڈیر لی یین نے مزید اعلان کیا کہ اس پیکج کے تحت ایک نئی شق بھی شامل کی گئی ہے جس کے مطابق یوکرین تنازع کے آغاز کے بعد روسی مسلح افواج میں خدمات انجام دینے والے افراد کے یورپی یونین میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے گی۔
تاہم اس تجویز کے نافذ العمل ہونے سے قبل یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی منظوری درکار ہوگی۔


