اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ مالی سال 2018 کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے صوبے امیر ہوگئے ہیں۔ انہوں نے سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقم میں مسلسل کمی ہو رہی ہے، سرمایہ کاری جی ڈی پی کی 2.6 فیصد سے کم ہو کر 0.6 فیصد ہوگئی ہے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ 5 ہزار ارب کے منصوبوں کے پی سی ون پر کام ہو رہا ہے، ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لیے 10 ہزار ارب درکار ہیں جبکہ مالی سال 2018 کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے صوبے امیر ہوگئے ہیں کیونکہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ بڑھا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے وزارتوں نے 3 ہزار ارب روپے کے منصوبوں کا مطالبہ کیا تھا، تاہم وفاقی ترقیاتی پروگرام 2018 کی ایک ہزار ارب روپے کی سطح پر کھڑا ہے، اس صورتحال میں صرف منتخب منصوبوں پر کام کیا جا سکے گا۔
احسن اقبال نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر بلوچستان کی این 25 شاہراہ کے لیے 125 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اس کے بعد وفاقی ترقیاتی پروگرام کی مالیت صرف ایک ہزار ارب روپے رہ جاتی ہے۔ 720 ارب روپے کے نئے منصوبوں کی تجویز ہے، بلوچستان کے لیے 100 ارب روپے، 150 ارب روپے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص ہیں۔


