چین کے شین ژو 23مشن کے خلا بازوں نے جیوچھوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر میں میڈیا سے ملاقات کی۔
چینی خلا باز ژو یانگ ژو، ژانگ ژی یوآن اور لی جیا یِنگ شین ژو 23 کے انسانی خلائی پرواز مشن کو انجام دیں گے۔ ژو اس خلائی مشن کی کمان کریں گے۔
شین ژو 23 کا انسان بردار خلائی جہاز اتوار کی شب بیجنگ کےوقت کے مطابق رات 11 بج کر 8 منٹ پر چین کے شمال مغربی علاقےمیں واقع جیوچھوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے روانہ کیا گیا۔
یہ تینوں خلا باز بالترتیب فلائٹ انجینئر، خلائی جہاز کے پائلٹ اور پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر اس خلائی مشن میں شامل ہیں۔
ژو یانگ ژو اس سے قبل شین ژو 16 کےخلائی مشن میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): ژو یانگ ژو، رکن، شین ژو 23 عملہ
”چین کا انسانی خلائی پروگرام ایک طویل سفر طے کر چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب صرف ایک شخص ایک دن کے لئے خلا میں جایا کرتا تھا۔ پھر کئی خلا باز طویل عرصے تک وہاں قیام کرنے لگے اور آج وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم خلا میں ایک سال تک قیام کی تیاری کر رہے ہیں۔ یکے بعد دیگرے تاریخی کامیابیوں نے چین کے خلائی پروگرام کی ترقی اور پیش رفت کو نمایاں کیا ہے۔ یہ انسانی خلائی پروگرام کی تیز رفتار ترقی ہی کا نتیجہ ہے کہ ہم جیسے خلا باز اپنے خوابوں کو نسل در نسل خلا میں لے جانے کے قابل ہوئے ہیں۔“
ژانگ ژی یوآن اور لی جیا یِنگ اپنے پہلے خلائی مشن پر روانہ ہوئے ہیں۔
لی جیا یِنگ چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون خلا باز ہیں جو کسی خلائی مشن میں کا حصہ بن رہی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): ژانگ ژی یوآن، رکن، شین ژو 23 عملہ
”ہماری خلا باز نسل کی خوش قسمتی ہے کہ وہ ایک ایسے عظیم دور میں زندگی گزار رہی ہے جو ہمیں خوابوں کی سمت اور انہیں پورا کرنے کا موقع دیتا ہے۔ جب آپ کی ذاتی کوششیں قومی اہداف اور لوگوں کی توقعات سے جڑ جائیں تو وہ لامحدود طاقت پیدا کرتی ہیں۔ جس قدر آپ اپنے جذبے کو برقرار رکھیں اور کبھی ہمت نہ ہاریں تو آپ اپنے مقررہ اہداف تک پہنچ سکتے ہیں۔“
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): لی جیا یَنگ، رکن، شین ژو 23 عملہ
” اس وقت میرا دل فخر اور شکرگزاری کے جذبات سے بھرا ہوا ہے اور میں اس مشن کی عظمت اور اس سے جڑی ذمہ داری کو گہرائی سے محسوس کر رہی ہوں۔ سب سے پہلے میں اپنے وطن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جس نے ہمیں اپنے خواب پورے کرنے کا موقع فراہم کیا۔ میں بھرپور حمایت دینے پر ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی حکومت اور وہاں کے عوام کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔
تربیت کا یہ سفر واقعی چیلنجز اور انتہائی سخت تقاضوں سے بھرپور تھا۔ آج یہاں کھڑے ہونا ہمارے ساتھی خلا بازوں کی باریک بینی سے کی گئی رہنمائی، تمام خلائی کارکنوں کی بے لوث محنت اور ہمارے خاندانوں کی غیر مشروط حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔“
چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


