چینی محققین کی ایک ٹیم نے اعلیٰ درجہ حرارت پر سپر کنڈکٹیویٹی کو سمجھنے میں ایک بڑی پیش رفت کی ہے جس سے اس کے بنیادی طریقہ کار پر نئی اور اہم تجرباتی معلومات سامنے آئی ہیں۔
یہ تحقیق چین کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (یو ایس ٹی سی) اور سدرن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ایس یو ایس ٹیک) کے محققین نے مشترکہ طور پر کی۔ تحقیق میں پہلی بار نِکل آکسائیڈ پر مبنی اعلیٰ درجہ حرارت سپر کنڈکٹیو تھن فلمز میں”نوڈز سے پاک سپر کنڈکٹنگ گیپ“ اور ”الیکٹران اور بوسونز کے درمیان تعامل“ کا کامیابی سے مشاہدہ کیا گیا۔ یہ نتائج حال ہی میں جریدے سائنس میں آن لائن شائع کئے گئے ہیں۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر اور سدرن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (یس یو ایس ٹیک) کے پروفیسر شوئے چی کون کے مطابق سپر کنڈکٹنگ گیپ کی ہم آہنگی اور سپر کنڈکٹنگ جوڑی بنانے کا طریقہ کار اس تحقیقی کے دو بنیادی اور اہم ترین معاملے شمار کئے جاتے ہیں۔
یہ ہم آہنگی اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آیا سپر کنڈکٹنگ گیپ یکساں ہے یا نہیں۔ سپر کنڈکٹر میں توانائی بچانے کے لئے الیکٹرانز کا جوڑوں کی شکل اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے. یہ ایک ایسا عمل ہے جسے ”سپر کنڈکٹنگ گیپ“ سے ماپا جاتا ہے۔ دوسری جانب روایتی سپر کنڈکٹرز مکمل طور پر یکساں گیپ کے حامل ہوتے ہیں اور ان میں ”نوڈز“ (ایسے مقامات جہاں گیپ صفر ہو جاتا ہے)نہیں ہوتے جبکہ کاپر پر مبنی سپر کنڈکٹرز کے بارے میں خیال کیا جاتاہے کہ وہ مخصوص سمتوں میں نوڈز ظاہر کرتے ہیں۔
محققین نے نئے نکل پر مبنی فلموں کا مطالعہ کر کے دریافت کیا کہ ان کا سپرکنڈکٹنگ گیپ ”نوڈز“ (صفر پوائنٹس) سے پاک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ توانائی کا یہ خلا ہر سمت میں یکساں اور مسلسل ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ نکل اور تانبے پر مبنی سپرکنڈکٹرز ممکنہ طور پر مختلف طبعی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ یہ الیکٹران کس طرح آپس میں ملتے ہیں۔ چونکہ الیکٹران قدرتی طور پر ایک دوسرے کو دُور دھکیلتے ہیں اس لئے انہیں اکٹھا کرنے کے لئے کسی “درمیانی کردار” کی ضرورت ہوتی ہے۔ محققین نے توانائی کے ڈیٹا میں ایک منفرد “فنگر پرنٹ” جیسا سگنل پایا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر کچھ بوسونز اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں اور نکل پر مبنی مواد میں الیکٹرانز کے جوڑے بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
نکل پر مبنی سپرکنڈکٹنگ مواد پر تحقیق اس وقت عالمی سائنسی حلقوں میں ایک جدید اور اہم ترین موضوع ہے تاہم اس میں مواد کی تیاری اور تجرباتی آلات کی ترقی کے حوالے سے شدید تکنیکی مشکلات پائی جاتی ہیں ۔
اس دریافت سے پہلے محققین کی ٹیم مادی ترکیب اور الیکٹرانک ساخت کے مطالعے میں منظم پیش رفت کا سلسلہ پہلے ہی طے کر چکی تھی جس میں پیچیدہ آکسائیڈز کو ایٹمی سطح پر تیار کرنے کی جدید تکنیکوں کا فروغ بھی شامل ہے جس نے اس تحقیق کے لئےراستہ ہموار کیا۔
شوئے نے کہا کہ کوانٹم مادّے کی تحقیق میں یہ ایک اہم قدم ہے اور اس سے سرحدی طبیعیات میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار اور ہائی ٹمپریچر سپرکنڈکٹویٹی کو سمجھنے کی عالمی کوششوں میں اس کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی ہوتی ہے۔
شین زین، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


