آستانہ (شِنہوا) چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر عوامی تحفظ وانگ شیاؤ ہونگ نے کہا ہے کہ چین وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ انسداد دہشت گردی، ٹیلی کام فراڈ اور دیگر سرحد پار جرائم کے خلاف کارروائی، اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ سکیورٹی تعاون اور امیگریشن مینجمنٹ جیسے شعبوں میں عملی تعاون کو مسلسل گہرا کرنے کے لئے تیار ہے۔
وانگ نے ان خیالات کا اظہار قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقدہ پبلک سکیورٹی اور داخلی امور سے متعلق دوسری چین-وسطی ایشیا وزراء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وانگ نے کہا کہ پہلی کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے بعد سے تمام فریقین نے اس طریقہ کار کے فریم ورک کے تحت سٹریٹجک مذاکرات کو مضبوط کیا ہے اور عملی تعاون کو آگے بڑھایا ہے جس کے بار آور نتائج حاصل ہوئے ہیں اور علاقائی سلامتی و استحکام کو ایک نئی جلا ملی ہے۔
وانگ کا کہنا تھا کہ چین تمام فریقین کے ساتھ مل کر گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو پر فعال طور پر عملدرآمد کرنے، چین-وسطی ایشیا جذبے کو آگے بڑھانے اور عوامی تحفظ و داخلی امور پر چین-وسطی ایشیا وزراء کانفرنس کے میکانزم کو مسلسل بہتر بنانے کے لئے تیار ہے۔
انہوں نے قانون نافذ کرنے والے علاقائی اداروں اور سکیورٹی تعاون کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے اور مشترکہ مستقبل کے حامل چین-وسطی ایشیا کمیونٹی کی تعمیر میں بہتر تعاون فراہم کرنے پر زور دیا۔
اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات پر دستخط کئے گئے اور نتائج کے بارے میں بریفنگ دینے کے لئے وزراء کی سطح پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔
اجلاس سے قبل قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف نے وفود کے سربراہان سے ملاقات کی۔
قازقستان میں اپنے قیام کے دوران وانگ نے قازقستان کے وزیر داخلہ اور قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں اور تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے داخلہ کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا۔


