جنوبی چین کے خودمختار علاقے گوانگ شی ژوانگ میں منائے جانے والے تہوار "سان یوئے سان” کو مقامی سطح پر خطے کا ’’ویلنٹائن ڈے بھی کہا جاتا ہے۔ تہوار کے موقع پر سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد علاقے کی طرف متوجہ ہو رہی ہے۔
قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم شدہ اس تہوار میں رواں برس 18 اپریل سے 24 مئی تک ایک ہزار سے زائد موضوعاتی سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔
اندرون و بیرون ملک سے آنے والے سیاح ہوم اسٹے سے لے کر کھیت سے میز تک تازہ کھانوں اور مقامی خصوصی پکوانوں کی متحرک اور رنگا رنگ نسلی ثقافتوں میں پوری طرح ڈوب گئے ہیں۔ یہ ثقافتیں مسلسل ترقی کر رہی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): سیاح
"صرف پچھلے چند برسوں میں ہی ہمیں گوانگ شی کے ژوانگ بروکیڈ کی خوبصورتی کا احساس ہوا ہے۔ اسے قریب سے دیکھنا ایسا لگتا ہے جیسے ہم قدیم زمانے میں واپس چلے گئے ہوں۔ آپ واقعی محسوس کر سکتے ہیں کہ اس ثقافت اور تاریخ میں کس قدر گہرائی اور قدامت ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): کلنٹن لیگرینڈ مور، امریکی سیاح
"یہ ایک بہت خوبصورت گاؤں ہے۔ آپ سب کو یہاں آنا چاہیے۔ یہاں کے لباس بے حد دلکش ہیں۔ لوگ خاندان اور دوستوں کی طرح اکٹھے ہوتے ہیں، روایتی چینی لباس پہنتے ہیں، گانے گاتے ہیں اور بھرپور لطف اٹھاتے ہیں۔”
یہ تہوار چین کے بدلتے ہوئے سیاحتی شعبے کی ایک جھلک پیش کرتا ہے جس میں اب ثقافت کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے تجربات پر بھی زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): لی دے شِن، مارکیٹنگ منیجر، سیاحتی مقام، گوانگ شی
"رواں برس ہم سیاحوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ باہمی تعامل پر مبنی تجربات کریں۔ ’سان یوئے سان‘ تہوار لوک گیتوں کے حوالے سےخاصا مشہور ہے۔ ماضی میں ہم زیادہ تر سیاحوں کے لئے پرفارمنس پیش کرتے تھے لیکن رواں برس سال ہم نے گانے کے خصوصی کارنر قائم کئے تاکہ سیاح بھی اس میں شامل ہو سکیں۔”
چین بھر میں حکام سیاحت اور مقامی معیشت کو فروغ دینے کے لئے مقامی ثقافتی روایات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): یان شوئے مئی، نائب ڈائریکٹر، ادارہ نسلی ثقافت و فنون، گوانگ شی
"مادی اور غیر مادی ثقافتی ورثے کا امتزاج مؤثر انداز میں ثقافتی کشش کو حقیقی کھپت میں بدل دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں ڈوب کر سیاح فوری طور پر خوشی اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔”
نان نِنگ سےشِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


