ہومتازہ ترینچین مصنوعی ذہانت پر مبنی  صنعتی پیداوار میں  کلیدی محرک بن گیا،...

چین مصنوعی ذہانت پر مبنی  صنعتی پیداوار میں  کلیدی محرک بن گیا، جرمن کمپنی بوش کے سربراہ کی رائے

بوش گروپ کے بورڈ آف منیجمنٹ کے چیئرمین اسٹیفن ہارٹنگ کا کہنا ہے کہ چین مصنوعی ذہانت سے چلنے والی جدید اور ذہین صنعتی پیداوار میں ایک اہم عالمی محرک بنتا جا رہا ہے جبکہ جرمن ٹیکنالوجی کمپنی مصنوعی ذہانت کے صنعتی استعمال کو وسعت دیتے ہوئے مقامی سطح پر اپنی جدت کے دائرۂ کار کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔

ہارٹنگ جرمنی کے نمایاں صنعتی تجارتی میلے ’ہانوور میسے‘ کے موقع پر حال ہی میں شِنہوا کو ایک انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے صنعتی پیداوار کو ایک معاون ذریعےسے نکال کر فیصلہ سازی کے بنیادی نظام میں تبدیل کر رہی ہے جس سے انسان اور مشین کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): اسٹیفن ہارٹنگ، چیئرمین،بورڈ آف منیجمنٹ، بوش گروپ

”صنعتی پیداوار کا مستقبل مصنوعی ذہانت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس وقت مصنوعی ذہانت کی بہت زیادہ ترقی چین میں ہو رہی ہے۔ خاص طور پر نہایت مؤثر اوپن سورس ماڈلز اور ایپلی کیشن انجینئرز کی بڑی تعداد یہاں موجود ہے ۔ اس کے علاوہ چین میں پیداواری شعبے میں اعلیٰ مہارت بھی پائی جاتی ہے۔“

انہوں نے بتایا کہ بوش ”خود مختار عمل کرنے والی مصنوعی ذہانت“ کے تصور کو آگے بڑھا رہا ہے جو انسانوں، مشینوں اور ڈیجیٹل نظاموں کو ایک مربوط نظامِ کار میں یکجا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد صنعتی پیداوار میں افرادی قوت کی کمی، پیچیدگیوں میں اضافے اور لاگت کے دباؤ جیسے مسائل سے نمٹنا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): اسٹیفن ہارٹنگ، چیئرمین،بورڈ آف منیجمنٹ بوش گروپ

”اب چین میں ہماری صنعتی ٹیمیں بہت ترقی یافتہ ہیں۔ اس لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال معمول سے زیادہ ہے۔عام طور پر ہر عمل کے ہر مرحلے میں اے آئی ٹولز کے ذیعے یا تو آپ عمل کو ڈیزائن کرتے ہیں یا عمل کی نگرانی کرتے ہیں یا پھر انسانوں کے ساتھ مل کر پورے کارخانے کا انتظام بھی انہی ٹولز سے چلاتے ہیں۔“

انہوں نے چین کےمشرقی شہر سوژو میں قائم بوش کی اسمارٹ فیکٹری کو مثال کے طور پر پیش کیا جہاں خود مختار عمل کرنے والی مصنوعی ذہانت کو صنعتی سطح پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس پلانٹ میں بوش کے انجینئرز نے نئی مصنوعات کی صنعتی تیاری کے لئے اے آئی ایجنٹ پر مبنی ایک پلیٹ فارم تیار کیا ہے جس میں تقریباً 30 اے آئی ماڈلز اور متعدد ایجنٹس کو معیار کی جانچ اور پیداوار کی تیاری کے لئے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

ہارٹنگ کے مطابق یہ نظام اُس عمل کو جو پہلے کئی ہفتوں پر محیط ہوتا تھا اب کم کرتے ہوئے تقریباً ایک سے دو ہفتوں تک لے آیا ہے۔ اس نظام کو اب بتدریج یورپ اور شمالی امریکہ میں بوش کے دیگر کارخانوں تک وسعت دی جا رہی ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): اسٹیفن ہارٹنگ، چیئرمین،بورڈ آف منیجمنٹ بوش گروپ

”بوش ہمیشہ چین میں موجود رہے گا کیونکہ یہ ایک بہت بڑی منڈی ہے۔ یہ گاڑیوں کی صنعت کے لئے سب سے بڑی منڈی ہے اور ساتھ ہی ایک بہت بڑی صنعتی منڈی بھی ہے۔ ہم مسلسل سرمایہ کاری کرتے ہیں کیونکہ ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ منڈی وسیع ہو رہی ہے اور ٹیکنالوجی میں تبدیلی بہت تیز اور مسلسل ہوتی رہتی ہے۔ اسی لئے ہم لوگوں پر بھی بڑی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں چین میں موجود رہنا پسند ہے کیونکہ وہاں ہمارے 57 ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہر افراد موجود ہیں اور یہ ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے۔”

چین بدستور ایشیا میں بوش کے لئے گاڑیوں اور صنعتی شعبوں کی سب سے بڑی واحد منڈی ہے جو کمپنی کی عالمی ترقی کی سمت کو سہارا دے رہی ہے۔

سال 2025 میں چین میں بوش کی فروخت 149.8 ارب یوآن (21.9 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 4.9 فیصد زیادہ ہے۔ ہارٹنگ نے کہا کہ چینی منڈی کی وسعت اور تیز رفتار تکنیکی ترقی گروپ کے لئے اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید تقویت فراہم کرتی ہے۔

ہانوور، جرمنی سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں