ٹینگر صحرا
ننگ شیا، شمال مغربی خطہ، چین
صحرا کی سطح پر بھوسے کو شطرنجی انداز میں بچھا کر ریت کے ٹیلوں کو مستحکم کرنے کی چینی تکنیک "اسٹراؤ چیکر بورڈ” اب ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): تانگ شِی مِنگ، جنگلاتی انجینئر، ژونگ وی شہر، نِنگ شیا
"آپ جو دیکھ رہے ہیں یہ اسٹراؤ چیکر بورڈ کا جدید ورژن ہے جو بھوسے کی جالی بنانے والی ایک خاص قسم کی مشین کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ عموماً روایتی طور پر ہاتھ سے بنائی گئی بھوسے کی جالی زیادہ سے زیادہ دو سے تین سال میں خراب ہو جاتی ہے جبکہ مشین سے تیار کردہ جالی چھ سال سے زیادہ عرصہ تک برقرار رہ سکتی ہے۔”
1950 کی دہائی میں نِنگ شیا نے "اسٹراؤ چیکر بورڈ” تکنیک متعارف کرائی تھی تاکہ صحرا میں چین کی پہلی ریلوے لائن ’’باؤتو لان ژو ریلوے‘‘ کو ریت کے ٹیلوں میں دبنے سے بچایا جا سکے۔
صحرا کے پھیلاؤ کے خلاف یہ جدوجہد پورے چین میں کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر جاری رہی ہے۔
سال 1978 میں چین نے اپنا تاریخی ماحولیاتی منصوبہ "تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ فاریسٹ پروگرام” شروع کیا جو دنیا میں شجرکاری کا سب سے بڑا منصوبہ بن چکا ہے۔
گزشتہ دہائیوں کے دوران چین زمین کی مجموعی خرابی کو صفر تک محدود کرنے کا ہدف حاصل کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اس وقت چین میں بحالی کے قابل خراب شدہ زمین کا 53 فیصد حصہ مؤثر انتظام کے تحت ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران دنیا میں سرسبز رقبے کا جو اضافہ ہوا اُس کا تقریباً 25 فیصد حصہ چین نے فراہم کیا ہے۔
چین ریت کنٹرول کرنے کے اپنے تجربے، ٹیکنالوجی اور ماہر افرادی قوت کو اپنی سرحدوں سے باہر بھی دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل شیئر کر رہا ہے۔
سال 2025 میں نِنگ شیا میں ’چین وسطی ایشیا صحرا زدگی کنٹرول تعاون مرکز‘ کا آغاز کیا گیا۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): بٹسیٹسگ بانزراگچ، عالمی تعاون ڈویژن،وزارت ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، منگولیا
"ہم نے اسٹراؤ چیکر بورڈ اور سولر پینلز سمیت نِنگ شیا کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ جب اپنے ملک واپس جاؤں تو ان طریقوں کو وہاں بھی اپناؤں اور منگولیا میں اپنے ساتھیوں کو بھی سکھاؤں۔ اس طرح ہم نہ صرف منگولیا بلکہ دنیا بھر میں صحرا کے پھیلاؤ کے خلاف یہ طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔”
اقوام متحدہ کے صحرا کے پھیلاؤ کے خلاف کنونشن (یو این سی سی ڈی) کے ابتدائی دستخط کنندگان میں سے ایک ہونے کے ناطے چین نے عالمی سطح پر صحرا زدگی پر کنٹرول میں فعال کردار ادا کیا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): جیولیا کونچیڈا، لینڈ اینڈ واٹر ڈویژن، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، اقوام متحدہ
"زمین کی بربادی اور صحرا کے پھیلاؤ عالمی چیلنجز ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ چین اپنی جدت و اختراع پر مبنی ٹیکنالوجیز کے ذریعے تمام ممالک کے لئے ایک مثال قائم کر رہا ہے ۔ چینی ٹیکنالوجیز روایات اور مقامی علم میں گہری جبکہ سائنسی اعتبار سے مضبوط ہیں۔ میں واقعی اس بات کی منتظر ہوں کہ مزید تعاون کے مواقع پیدا ہوں اور ان ٹیکنالوجیز کو دوسرے ممالک میں منتقل کیا اور اپنایا جا سکے۔”
ژونگ وی، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
چین کو صحرا زدہ زمینیں قابلِ کاشت بنانے میں کامیابی مل رہی ہے
نِنگ شیا کے ٹینگر صحرا میں چینی تکنیک ’’اسٹراؤ چیکر بورڈ ‘‘کا جدید استعمال
یہ بھوسے کی جالی سے ریت کے ٹیلوں کو مستحکم کرنے کا منفرد طریقہ ہے
جدید مشینوں سے تیار کردہ بھوسے کی جالی زیادہ دیرپا ثابت ہوتی ہے
یہ تکنیک 1950 کی دہائی میں ریلوےلائن کے تحفظ کے لئے بھی اپنائی گئی
چین کا ماحولیاتی منصوبہ صحرا زدگی کے خلاف مسلسل پیش رفت کر رہا ہے
"تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ فاریسٹ پروگرام” شجرکاری کا سب سے بڑا عالمی منصوبہ
چین زمین کی بحالی کا ہدف حاصل کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا
چین عالمی سطح پر ریت کنٹرول تجربات اور ٹیکنالوجی شیئر کر رہا ہے
منگولیا سمیت دیگر ممالک صحرا کے پھیلاؤ کے خلاف چینی تجربے کو اپنانے کے خواہاں
ماہرین کے مطابق چینی ٹیکنالوجی جدید اور روایتی علم کا امتزاج ہے


