ہومانٹرنیشنلآبنائے ہرمز کی طویل بندش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، سربراہ...

آبنائے ہرمز کی طویل بندش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، سربراہ اقوام متحدہ

اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں طویل رکاوٹوں کے تباہ کن نتائج ہوں گے۔

صحافیوں سے ملاقات میں گوتریس نے تین ممکنہ منظرنامے پیش کئے۔ بدترین صورتحال میں اگر آبنائے سال کے اختتام تک بند رہی تو عالمی مہنگائی 6 فیصد سے تجاوز کر جائے گی جبکہ اقتصادی نمو کم ہو کر 2 فیصد رہ جائے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ "شدید انسانی مشکلات جنم لیں گی، خاص طور پر دنیا کی سب سے کمزور آبادیاں متاثر ہوں گی اور ہمیں عالمی کساد بازاری کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کے لوگوں، معیشت اور سیاسی و سماجی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔”

گوتریس نے کہا کہ یہ ساکت نہیں بلکہ تیزی سے بڑھنے والے ہوں گے۔ جتنی دیر تک اس اہم گزرگاہ کو روکے رکھا جائے گا، نقصان کو واپس پلٹنا اتنا ہی مشکل اور انسانیت کے لئے لاگت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حتیٰ کہ بہترین صورتحال میں بھی "اگر آج ہی پابندیاں ختم کر دی جائیں” تو سپلائی چین کو بحال ہونے میں مہینوں لگیں گے، جس سے کم پیداوار اور زیادہ قیمتوں کا سلسلہ برقرار رہے گا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ کے مطابق اس صورت میں بھی رواں سال عالمی اقتصادی نمو 3.4 فیصد سے کم ہو کر 3.1 فیصد رہ جائے گی۔ عالمی مہنگائی جو کم ہو رہی تھی، بڑھ کر 3.8 فیصد سے 4.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ عالمی تجارتی اشیاء کی تجارت کی نمو گزشتہ سال کے 4.7 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 2 فیصد رہ جائے گی جبکہ سپلائی چین میں نمایاں رکاوٹیں برقرار رہیں گی۔

دوسرے منظرنامے میں اگر یہ رکاوٹ سال کے وسط تک جاری رہی تو عالمی اقتصادی نمو 2.5 فیصد تک گر جائے گی اور مہنگائی بڑھ کر 5.4 فیصد ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں مزید 3 کروڑ 20 لاکھ افراد غربت کا شکار ہو جائیں گے جبکہ 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو شدید بھوک کا سامنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا بحران تیسرے مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کے باوجود ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے اثرات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

گوتریس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ "تمام فریقوں کے لئے میرا پیغام واضح ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کے مطابق جہازرانی کے حقوق اور آزادیوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ آبنائے کو کھولا جائے، تمام جہازوں کو گزرنے دیا جائے اور عالمی معیشت کو دوبارہ سانس لینے کا موقع دیا جائے۔”

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں