ہومانٹرنیشنلوائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیہ میں فائرنگ سے سیکرٹ سروس...

وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیہ میں فائرنگ سے سیکرٹ سروس ایجنٹ زخمی

واشنگٹن (شِنہوا) وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیہ کے دوران ایک امریکی سیکرٹ سروس ایجنٹ کو حفاظتی لباس کے باوجود گولی لگی اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے مبینہ حملہ آور کی تصویر شیئر کی جس میں وہ قابو میں نظر آتا ہے اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں اور وہ زمین پر منہ کے بل لیٹا ہوا ہے۔

ہفتے کی رات دیر گئے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ مبینہ شوٹر ریاست کیلیفورنیا کا رہائشی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار اس کے اپارٹمنٹ گئے۔

ایک صحافی کے سوال پر کہ آیا حملہ آور نے اکیلے کارروائی کی، ٹرمپ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ اکیلا ہی تھا اور میرا بھی یہی خیال ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا اس فائرنگ کا تعلق ایران کی جنگ سے ہو سکتا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ میرا نہیں خیال لیکن آپ کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتے۔

ٹرمپ نے واقعے کے فوراً بعد ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ میں کہا کہ ڈی سی میں ایک غیر معمولی شام تھی۔ سیکرٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شاندار کام کیا۔ انہوں نے تیزی اور بہادری سے کارروائی کی۔ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔

ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پروٹوکول کے مطابق ہمیں مقام چھوڑنے کی ہدایت کی ہے جس پر ہم نےفوراً عمل کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خاتون اول، نائب صدر اور تمام کابینہ کے ارکان محفوظ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کا عشائیہ 30 دن کے اندر دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔

امریکی سیکرٹ سروس نے ایکس پر بیان میں کہا کہ وہ میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر مرکزی میگنیٹومیٹر سکریننگ ایریا کے قریب فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

فائرنگ کے بعد ٹرمپ کو واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے نکال لیا گیا۔ براہ راست نشریات میں شرکاء کو میزوں کے گرد جھکتے اور پناہ لیتے دیکھا گیا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیہ میں شرکت کر رہے تھے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ملزم کی شناخت 31سال کول ایلن کے طور پر ہوئی ہے جو ٹورنس، کیلیفورنیا کا رہائشی ہے۔ پولیس کے مطابق اس کے پاس شاٹ گن، ہینڈ گن اور متعدد چاقو موجود تھے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں