ٹوکیو (شِنہوا) جاپان میں چینی مین لینڈ سے آنے والے سیاحوں کی تعداد مارچ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 55.9 فیصد کم ہو کر 2 لاکھ 91 ہزار 600 رہ گئی جس میں کمی کا رجحان مسلسل جاری ہے اور جاپان کی معیشت کے مختلف شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔
جاپان کے قومی سیاحتی ادارے کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق یہ کمی مسلسل چوتھے مہینے بھی جاری رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں چینی مین لینڈ سے آنے والے سیاحوں کی تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 54.6 فیصد کم رہی۔
یہ مسلسل کمی اس وقت شروع ہوئی جب جاپان کی وزیراعظم سنائی تاکائیچی کے تائیوان سے متعلق غیر محتاط بیانات سامنے آئے جس کے بعد چین سے جاپان جانے والے سیاحوں میں کمی آتی گئی۔
اس صورتحال نے پرچون، ہوٹلوں اور ریستورانوں سمیت مختلف شعبوں پر دباؤ بڑھا دیا ہ جو روایتی طور پر بڑی حد تک چینی سیاحوں پر انحصار کرتے رہے ہیں۔
جاپان ٹورازم ایجنسی کے جاری ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مارچ کے دوران چینی سیاحوں کے اخراجات ایک سال پہلے کے مقابلے میں نصف ہو کر 271.5 ارب ین (تقریباً 1.71 ارب امریکی ڈالر) رہ گئے۔
جاپان کے بڑے ریٹیلرز پہلے ہی اس کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ سٹور چلانے والے تاکاشی مایا اور جے ڈاٹ فرنٹ ریٹیلنگ دونوں نے گزشتہ مالی سال میں منافع میں کمی رپورٹ کی ہے جو پانچ سال بعد پہلی بار ہوا ہے۔
جے ڈاٹ فرنٹ ریٹیلنگ کے صدر کائیچی اونو نے مالی نتائج کے متعلق بریفنگ میں کہا کہ قلیل مدت میں چینی سیاحوں کی کمی کے اثرات کو پورا کرنا مشکل ہوگا۔


