ہومتازہ تریناستنبول ثقافتی ورثہ میلہ، ترکیہ کا آثارِ قدیمہ اور عجائب گھروں میں...

استنبول ثقافتی ورثہ میلہ، ترکیہ کا آثارِ قدیمہ اور عجائب گھروں میں چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم

9واں "ہیریٹیج استنبول” میلہ عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے ایک اہم پُل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ میلہ ترکیہ کے ثقافتی ورثہ کے شعبے کے لئے چین کے ساتھ مزید گہرے تعاون کی تلاش کا ایک متحرک پلیٹ فارم بن چکا ہے۔

یکم سے 4 اپریل تک یینی کاپی یوریشیا ایگزی بیشن اینڈ شو سینٹر میں منعقد ہونے والے اس ایونٹ میں 140 سے زائد مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر بحالی، عجائب گھروں کے علم اور آثارِ قدیمہ کے شعبوں میں مشترکہ مہارت کے ذریعے شاہراہِ ریشم کے قدیم روابط کو جدید دور میں نئی زندگی دینے پر غور کیا گیا۔

ترکیہ کے ورثہ ماہرین کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور چین دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے باہمی تعلق کو جیسے جیسے مضبوط بنا رہے ہیں اس تناظر میں عجائب گھروں کے حوالے سے چینی مہارت اور بحالی کے شعبے میں ترکیہ کےتجربے کو یکجا کرنا اس صنعت کا اگلا اہم مرحلہ ہو سکتا ہے۔

میلے میں ہونے والی گفتگو کا سلسلہ تہذیب کے آغاز تک جا پہنچا۔ معروف ترک ماہرِ آثارِ قدیمہ نیزیہ باشگیلن نے "ثقافتی شاہراہِ ریشم” کے قیام کی تجویز پیش کی جو قدیم تجارتی راستے کے ساتھ ایک جدید ثقافتی رابطہ کی عکاسی کرتی ہو۔

باشگیلن نے شِنہوا کو بتایا کہ ترکیہ اور چین دنیا کے اُن دو عظیم خطوں کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں زراعت، مٹی کے برتن بنانےاور تعمیرات جیسے شعبوں میں منفرد ترقی پہلی بار سامنے آئی۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (ترک): نزیہ باشگیلن، ماہرِ آثارِ قدیمہ

"اس حوالے سے ہم ایک اہم قدرِ مشترک رکھتے ہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے ہمارا تعلق اُن خطوں سے ہے جہاں تہذیب کا آغاز ہوا۔

چین اور ترکیہ کے پاس خاص طور پر اس حوالے سے منفرد آثار اور بستیاں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

چین میں ہونے والی تحقیق کا جائزہ لینا اور دنیا کے سامنے اس کی وضاحت کرنا ضروری ہے تاکہ شاہراہِ ریشم کو مشترکہ کوششوں سے ایک ثقافتی راستے میں تبدیل کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لئے ترکیہ کی یوینورسٹیاں، عجائب گھر، وازارتیں اور سماجی ادارے جن میں ہم خود بھی بطور ناشر شامل ہیں چین میں برابر کے اداروں کے ساتھ شراکت داری کے تحت کام کرنے کو تیار ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اس پوزیشن میں ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سےعالمی سطح کے مباحثوں میں قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔

منی ایچر آرٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نیہات اوکتن کے مطابق اس سلسلے میں چین بیک وقت ایک محرک بھی ہے اور ایک تکنیکی شراکت دار بھی۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (ترک): نیہات اوکتن، چیف ایگزیکٹو آفیسر، منی ایچر آرٹ

"جب ہم نے چین میں منصوبوں پر کام کیا تو ہمیں ایک شاندار ڈھانچہ ملا۔

ہم نے ییلو کرین ٹاور (ساری تُرنا ساتوسو)کے ماڈل پر کام کیا۔ یہ ایک مخروطی شکل کا خوبصورت مینار چینی پاگوڈا تھا۔ اسےہم نے 1:25 کے تناسب سے تیار کیا۔

اس کی اونچائی تقریباً 2 میٹر تھی اور ہم نے اس کے سامنے موجود گھنٹی کے حصے پر بھی کام کیا۔

ییلو کرین ٹاور کو یہ نام اس کےسامنے موجود زرد کرین کے مجسمے کے باعث دیا گیا۔ یہ حقیقت میں ایک نہایت باوقار اور خوبصورت مجسمہ ہے۔ اس کے علاوہ ہم ٹیمپل آف ہیون، فاربڈن سٹی جیسے مشہور مقامات اور اور عظیم دیوارِ چین کے ماڈلز بھی اپنے ‘ورلڈ پارک’ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”

ہیریٹیج پروجیکٹس کے بانی عثمان مراد آکان نے اس بات پر زور دیا کہ اس تعاون کی بنیاد عالمی سطح پر رکھی جا چکی ہے۔ انہوں نے اس ایونٹ کو "ثقافتی ورثے کا ہفتہ” قرار دیا جس میں دنیا بھر سے 120 سے زائد مقررین نے شرکت کی جبکہ روس، متحدہ عرب امارات، یورپ اور امریکہ کی کمپنیاں بھی اس میں شریک ہوئیں۔

میلے کے دسویں ایڈیشن کے حوالے سےآکان نے اپنے چینی ہم منصبوں کو اس فروغ پذیر ماحول دوست نظام میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (ترک): عثمان مراد آکان، بانی، ہیریٹیج پروجیکٹس

"ہم دو ایسے ممالک ہیں جو زمینی فاصلے کے باوجود شراکت داری میں بندھے ہوئے ہیں۔ ثقافت کے میدان میں ہم آپس میں مختلف نوعیت کا تعاون کر سکتے ہیں۔ نجی شعبے کے طور پر ہم ان کوششوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

خاص طور پر چین میں عجائب گھروں کے اعلیٰ ترقی یافتہ شعبے، بحالی اور لائبریری سائنس جیسے شعبوں میں ہم ایسے پلیٹ فارم بنا سکتے ہیں جہاں ہم اپنے تجربے اور مہارت کو باہمی طور پر یکجا کر سکیں۔ آپ کی بدولت ہم یہ اعلان چین کے سامنے بھی کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہم اپنے تعلقات کے ذریعے اس فریم ورک کو بنانےکے طریقۂ کار کا جائزہ لیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اس میلے کے آئندہ انعقاد کے لئے بھی کام کریں گے جو کہ ہر دو سال بعد منعقد ہوتا ہے۔”

استنبول، ترکیہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں