بیجنگ (شِنہوا) چینی وزیرِاعظم لی چھیانگ نے ریاستی کونسل کے ایک حکم نامے پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت غیر ملکی ریاستوں کے غیر قانونی ماورائے حدود اختیار کے خلاف جوابی اقدامات سے متعلق نئے قواعد جاری کئے گئے ہیں۔
یہ قواعد 20 شقوں پر مشتمل ہیں اور یہ اجرا کے ساتھ ہی نافذ العمل ہو گئے ہیں۔
قواعد کے مطابق ماورائے حدود اختیار سے مراد کسی ملک کی طرف سے کئے گئے وہ اقدامات ہیں جو بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کے منافی ہوں اور چین کی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات یا چینی شہریوں اور اداروں کے جائز حقوق کے لئے نقصان دہ ہوں۔
ان قواعد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کے ردعمل میں چینی حکومت کو جوابی اقدامات کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی معاملے میں مناسب قانونی تعلق موجود ہو تو چینی حکومت کو متعلقہ طرزعمل پر ماورائے حدود اختیار کے نفاذ کا حق بھی حاصل ہوگا۔
ان ضوابط کے تحت ایک ایسی فہرست بنائی گئی ہے جس میں ان غیر ملکی تنظیموں اور افراد کو شامل کیا جائے گا جو کسی غیر ملکی ریاست کے غیر قانونی ماورائے حدود اقدامات کو فروغ دیتے ہیں یا ان پر عملدرآمد میں حصہ لیتے ہیں۔
قواعد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی تنظیم یا فرد ایسے غیر قانونی ماورائے حدود اقدامات پر عملدرآمد نہیں کر سکتا اور نہ ہی ان میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ایسے غیر قانونی اقدامات سے متاثر ہونے والے چینی شہری اور ادارے ان پر عملدرآمد میں شامل افراد کے خلاف مقدمہ دائر کر سکتے ہیں اور سرکاری ادارے ان قانونی کارروائیوں میں رہنمائی اور معاونت فراہم کریں گے۔
چینی حکام بارہا یکطرفہ پابندیوں کے غلط استعمال اور ملک سے باہر تک لاگو ہونے والے اختیار کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں۔
چین کا غیر ملکی پابندیوں کے خلاف قانون 2021 میں منظور کیا گیا تھا جبکہ حالیہ برسوں میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے اہم اجلاسوں میں بھی غیر ملکی پابندیوں، مداخلت اور ملک سے باہر تک لاگو ہونے والے اختیار کے خلاف نظام کو مضبوط بنانے کا عہد کیا گیا ہے۔


