بیجنگ (شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ نے منگل کے روز مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے فروغ کے لئے چار نکاتی تجویز پیش کی ہے۔ یہ بات انہوں نے بیجنگ میں متحدہ عرب امارات کے ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کے دوران کہی۔
شی جن پھنگ نے پرامن بقائے باہمی کے اصول پر عمل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کے لئے مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سکیورٹی نظام کی تشکیل کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
انہوں نے قومی خودمختاری کے اصول کی پاسداری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کے ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے اور تمام ممالک کے افراد، تنصیبات اور اداروں کی حفاظت کو موثر طور پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔
بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے اصول کی پاسداری کے حوالے سے شی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو برقرار رکھا جانا چاہیے تاکہ دنیا دوبارہ جنگل کے قانون کی طرف نہ لوٹ جائے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی اور سلامتی کو ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ تمام فریقین کو مل کر مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کے ممالک کی ترقی کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے۔


