تہران (شِنہوا) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور تکنیکی حدود کو مدنظر رکھنے پر آبنائے ہرمز سے محفوظ گزر 2 ہفتوں کے لئے ممکن ہوگی۔
عراقچی نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ اگر ایران کے خلاف حملے روک دیئے جائیں تو ایران کی ’’طاقتور مسلح افواج اپنی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی۔‘‘
عراقچی نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر کی "خطے میں جنگ کے خاتمے کے لئے انتھک کوششوں” کو سراہا۔
دریں اثنا ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے امریکہ کو جنگ کے خاتمے کے لئے اپنے 10 نکاتی منصوبے کو قبول کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ "2 ہفتوں کے لئے ایران پر بمباری اور حملوں کو معطل کرنے” پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ان کا فیصلہ اس سے مشروط ہے کہ ایران "آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طور پر کھولنے” پر رضامند ہو۔


