شین زین(شِنہوا)اپیک کے اعلیٰ حکام کا غیر رسمی اجلاس (آئی ایس او ایم) چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر شین زین میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اپیک ’’چائنہ ایئر‘‘ کے لئے کھلے پن، اختراع اور تعاون کو تین ترجیحات جبکہ ’’مشترکہ خوشحالی کے لئے ایشیا بحرالکاہل برادری کی تعمیر‘‘ کو موضوع بنانے کی چین کی تجویز کی متفقہ طور پر منظوری دے دی گئی۔
ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون (اپیک)سیمپوزیم اور آئی ایس او ایم جمعرات سے جمعہ تک منعقد ہوئے، یہ چین کی طرف سے 33 ویں اپیک اقتصادی رہنماؤں کے اجلاس کے میزبان کی حیثیت سے پہلا پروگرام تھا، اس کے ساتھ اپیک’’چائنہ ائیر‘‘ کا آغاز ہو گیا۔
چین کے نائب وزیر خارجہ ما ژاؤ شو نے آئی ایس او ایم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال نومبر میں جمہوریہ کوریا کے شہر گیانگ جو میں ہونے والے اپیک سربراہ اجلاس میں چینی رہنما نے مشترکہ مستقبل کی حامل ایشیا بحرالکاہل برادری کی تعمیر، ایشیا بحرالکاہل کے آزاد تجارتی علاقے کو بڑھانے اور روابط، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں عملی تعاون کو فروغ دینے کے لئے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین مشترکہ مستقبل کی حامل ایشیا بحرالکاہل برادری کی تعمیر کا ہدف حاصل کرنے، علاقائی معاشی تعاون کو مستحکم بنانے، ایشیا بحرالکاہل کی ترقیاتی صلاحیت بروئے کا لانے اور خطے کے لئے مشترکہ طور پر ترقی کا نیا دور شروع کرنے کی خاطر تمام فریقین کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔
تمام شرکاء نے مشترکہ مستقبل کی حامل ایشیا-بحرالکاہل برادری کو فروغ دینے میں چین کی کوششوں کو بے حد سراہا اور اپنی آمادگی ظاہر کی کہ وہ 2026 میں اپیک اجلاس کی میزبانی میں چین کی سرگرمی سے حمایت کریں گے۔ ’’چائنہ ایئر‘‘ کو کامیاب بنانے کے لئے مشترکہ طور پر کام کریں گے اور ایشیا-بحرالکاہل اور دنیا میں اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے نئی خدمات انجام دیں گے۔


