دارالسلام(شِنہوا)چین کے دارالحکومت بیجنگ میں 1995 میں منعقد ہونے والی خواتین سے متعلق چوتھی عالمی کانفرنس کی سیکرٹری جنرل گرٹروڈ مونگیلا نے کہا ہے کہ 21 ویں صدی میں خواتین کے مقاصد کی ہمہ جہت ترقی کے بغیر ایک بہتر زندگی کی تعمیر ناممکن ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ خواتین مزید دانش اور قوت کے ساتھ کردار ادا کریں۔
شِنہوا کے ساتھ ایک انٹرویو میں مونگیلا نے کہا کہ اب ہم جس چیز کا انتظار کر رہے ہیں وہ 1995 کی اس کانفرنس میں منظور کئے گئے بیجنگ اعلامیہ اور لائحہ عمل کی مزید عملی تعبیر ہے۔
چونکہ دنیا خواتین سے متعلق چوتھی عالمی کانفرنس کی 30 ویں سالگرہ منا رہی ہے اس لئے چینی دارالحکومت اگلے پیر سے منگل تک خواتین پر عالمی رہنماؤں کے اجلاس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جس میں مونگیلا بھی شرکت کرنے والی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہوں کہ میں بیجنگ اعلامیہ اور ایکشن پلیٹ فارم اپنے وطن واپس لائی۔ میری خواہش ہے کہ ’بیجنگ ایکشن‘ کو تنزانیہ میں مزید مضبوطی سے جڑیں پکڑتے دیکھوں۔ انہوں نے بتایا کہ 1995 کی کانفرنس کے فوراً بعد وہ یہ دونوں اہم دستاویزات افریقہ لے آئی تھیں۔
مونگیلا نے کہا کہ بیجنگ کانفرنس میں شرکت کے بعد میں تنزانیہ واپس آئی اور خواتین کی ایک تقریب میں، میں نے اس وقت کے صدر بنجمن مکاپا کو بیجنگ اعلامیہ اور لائحہ عمل سے متعلق دستاویزات سونپیں۔ میں یقین رکھتی ہوں کہ خواتین ان نظریات پر عملدرآمد دیکھناچاہتی ہیں۔
انہوں نے یاد کیا کہ بیجنگ کانفرنس کے دوران معاشرے خواتین کو کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے کی ترغیب دینا شروع کر رہے تھے اور یہ کہ افریقہ میں خواتین اکثر پیچھے رہ جاتی تھیں کیونکہ بہت سی خواتین کے پاس خواندگی اور حسابی مہارتوں کی بنیادی کمی تھی۔


