ہومتازہ تریناہرام مصر کی تعمیر کا نیا سراغ دریائے نیل کنارے دریافت

اہرام مصر کی تعمیر کا نیا سراغ دریائے نیل کنارے دریافت

قاہرہ (لارڈ میڈیا): اہرام مصر کی تعمیر کا معمہ صدیوں سے ماہرین کے لیے دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ اب دریائے نیل کے قریب نئی دریافتوں نے اس سلسلے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ نے دریائے نیل کے مشرقی کنارے پر 5 ہزار سال پرانے قبرستان جیسے مقام کی کھدائی سے اہم شواہد دریافت کیے ہیں۔ ان مقبروں کا ڈیزائن اہرام مصر سے مماثلت رکھتا ہے، جو اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ قدیم مصریوں کو جدید تعمیراتی تکنیکس کا علم تھا۔

ان مقبروں کی دیواریں نیچے زیادہ موٹی اور اوپر تنگ ہوتی گئیں، جو عمارت کو زیادہ استحکام فراہم کرتی ہیں۔ محققین نے مقبروں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھروں اور لکڑی کی کٹائی کے قدیم طریقہ کار کے شواہد بھی دریافت کیے ہیں۔ یہ مقبرے مصر کے علاقے جبل الطیر میں دریافت ہوئے ہیں اور ان کا انداز مصر کے قدیم شہر ابیدوس کے بادشاہوں کے مقبروں سے ملتا جلتا ہے۔

مصر کے وزیر سیاحت شریف فاتح کے مطابق اس دریافت سے محققین کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ قدیم مصر کی تاریخ میں یہ تعمیراتی انداز کس طرح ارتقائی مراحل سے گزرا۔ مئی 2024 میں کی گئی ایک تحقیق میں دریائے نیل کی ایک شاخ دریافت ہوئی تھی، جو 30 سے زائد اہرام کے گرد بہتی تھی۔

یہ شاخ نا معلوم عرصے قبل گیزہ کے عظیم ہرم اور دیگر اہرام کے گرد بہتی تھی۔ تحقیق نے وضاحت کی کہ دریا کی موجودگی قدیم مصریوں کے لئے بھاری پتھروں کو اہرام تک منتقل کرنے میں کیوں کر مددگار ثابت ہوئی۔ ریڈار سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے دریا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں