سان فرانسسکو (لارڈ میڈیا): ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے مونیٹائزیشن کی پالیسی میں سخت تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ غیر معیاری مواد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ نئے قوانین کے تحت تین اقسام کی ویڈیوز سے کمائی روک دی جائے گی، جن میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ غیر تخلیقی مواد، سنسنی خیز ویڈیوز اور حساس موضوعات پر مصنوعی مشورے شامل ہیں۔
یوٹیوب کے پارٹنر پروگرام نے وضاحت کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال پر مکمل پابندی نہیں، بلکہ ان ویڈیوز کو ہدف بنایا گیا ہے جو صرف پیسے کمانے کی نیت سے بنائی جاتی ہیں۔ یوٹیوب کے چیف آف ٹرسٹ اینڈ سیفٹی میٹ ہالپرن نے کہا کہ کمپنی ان خودکار چینلز کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے جو غیر معیاری ویڈیوز تیار کرتے ہیں۔
یہ پالیسی اپ ڈیٹ یوٹیوب کے لئے تجارتی لحاظ سے اہم ہے، کیونکہ وہ اشتہاری بجٹ کے حصول میں روایتی ٹی وی نیٹ ورکس اور نیٹ فلکس کے ساتھ مقابلے میں ہے۔ یوٹیوب اپنی ناظرین کی دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لئے غیر معیاری مواد سے بچنا چاہتا ہے۔
عام ناظرین کے لئے اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں کم گمراہ کن، سنسنی خیز اور غیر معیاری ویڈیوز دیکھنے کو ملیں گی۔ ویڈیوز بنانے والوں کو اپنے مواد میں انسانی تخلیقیت اور اصلیت شامل کرنی ہوگی، ورنہ انہیں کمائی کے پروگرام سے محروم ہونا پڑے گا۔


