بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت عوامی تحفظ (ایم پی ایس) کے مطابق چین اور امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مل کر نئے نشہ آور مادوں کی سمگلنگ سے متعلق بین الاقوامی جرائم کا ایک کیس حل کر لیا ہے۔
وزارت کے مطابق اینٹی نارکوٹکس بیورو اور امریکہ کے محکمہ انصاف کے تحت ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) نے 2024 میں اس کیس کی مشترکہ تحقیقات شروع کیں۔
وزارت نے بتایا کہ پولیس نے فروری 2026 میں چین کے شمالی شہر تیانجن میں امریکی فریق کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر گونگ نامی ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا۔ اس سے قبل امریکی حکام نے اسی کیس سے منسلک ایک امریکی مشتبہ شخص کو ریاست جارجیا میں گرفتار کیا تھا۔
وزارت نے کہا کہ اس کیس کا کامیاب حل چین اور امریکہ کے درمیان منشیات کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے منظم تعاون کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں فریقوں کی جانب سے سرحد پار جرائم کے خلاف مشترکہ کوششوں کا ایک اور عملی نتیجہ ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس مضبوط عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ منشیات سے متعلق جرائم اور سرحد پار جرائم کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔
اس ماہ کے آغاز میں وزارت نے بتایا تھا کہ چین اور امریکہ کے انسداد منشیات اداروں نے اپریل میں منشیات سمگلنگ کے ایک اور کیس کو مشترکہ طور پر حل کیا تھا۔ ہم آہنگ کارروائیوں کے دوران چین کے صوبوں لیاؤننگ اور گوانگ ڈونگ اور امریکہ کی ریاستوں فلوریڈا اور نیواڈا میں پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور منشیات کا ایک ذخیرہ برآمد کیا گیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان منشیات کی سمگلنگ کا ایک نیٹ ورک ختم کر دیا گیا۔
گزشتہ برسوں میں وزارت عوامی تحفظ نے سرحد پار خام کیمیائی مادے اور نئے نفسیاتی مادوں کی غیر قانونی فروخت کے خلاف کارروائیوں کو تیز کیا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں وزارت کے جاری بیان کے مطابق 2025 سے اب تک ملک بھر میں 29 ایسے مجرمانہ کیسز حل کئے جا چکے ہیں اور 157 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔


