اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیلی حکام کے اس فیصلے کی ’’سخت ترین الفاظ میں‘‘ مذمت کی ہے جس کے تحت انہوں نے مشرقی بیت المقدس میں جنوری میں قبضے میں لئے گئے یو این آر ڈبلیو اے کے شیخ جراح کمپاؤنڈ میں فوجی تنصیبات قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے ایک بیان میں کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے (مشرق قریب میں فلسطینی مہاجرین کے لئے اقوام متحدہ کی امدادی و بحالی ایجنسی) کے خلاف یہ غیر معمولی اور اشتعال انگیز اقدامات اقوام متحدہ کی املاک کی حرمت کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ مشرقی بیت المقدس سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یو این آر ڈبلیو اے کی مسلسل کارروائیوں کے لئے جنرل اسمبلی کے واضح مینڈیٹ پر عملدرآمد میں رکاوٹ بھی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکرٹری جنرل یو این آر ڈبلیو اے کے خلاف مسلسل بڑھتے ہوئے اقدامات کو مکمل طور پر ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔ انہیں اس بات پر شدید افسوس ہے کہ اسرائیلی حکام اقوام متحدہ کے مراعات اور استثنیٰ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے مطابق ایسے اقدامات غیر قانونی ہیں اور اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے کسی بھی حصے میں خودمختار اختیارات استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ مشرقی بیت المقدس سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنی غیر قانونی موجودگی کو جلد از جلد ختم کرے۔
بیان کے مطابق سیکرٹری جنرل اسرائیلی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے اور یو این آر ڈبلیو اے کے شیخ جراح کمپاؤنڈ کو فوری طور پر اقوام متحدہ کے حوالے کرے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے اقوام متحدہ کا ایک لازمی حصہ ہے اور شیخ جراح کمپاؤنڈ اب بھی اقوام متحدہ کی ملکیت تصور کیا جاتا ہے۔


