ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکپاکستانی سکالر سرخ ثقافت کے ذریعے عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے...

پاکستانی سکالر سرخ ثقافت کے ذریعے عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی راہیں روشن کرنے میں مگن

نان چھانگ (شِنہوا) چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک کی دوستی سرخ ثقافت سے نئی توانائی حاصل کر رہی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف چائنہ سٹڈیز کے ڈائریکٹر اور یونیورسٹی آف سرگودھا میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان تعلیمی و ثقافتی روابط کو ایک پل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے چین اور پاکستان کے درمیان سرخ ثقافت پر گہرے مکالمے کو فروغ دے رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کی دوستی کو فکری و روحانی تقویت مل رہی ہے۔

اعوان نے برملا انداز میں کہا کہ ’’چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے علاوہ ہمیں ایک روحانی راہداری کی بھی ضرورت ہے، اور سرخ ثقافت دراصل وہی راہداری ہے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات کی گہرائی صرف بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی تعاون تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی، نظریاتی اور تہذیبی سطح پر موجود مضبوط روابط میں بھی جھلکتی ہے جبکہ سرخ ثقافت اس تعلق کا بنیادی ذریعہ ہے۔

اعوان کی چینی سرخ ثقافت سے گہری وابستگی چین میں تعلیم اور سفر کے پانچ سالہ تجربے کا نتیجہ ہے۔ چین میں قیام کے دوران انہوں نے ملک کے تقریباً 70 فیصد صوبوں کا سفر کیا اور چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کا کئی بار دورہ کیا، جس کے باعث اس انقلابی سرزمین سے ان کا گہرا تعلق قائم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جیانگ شی کی مرچیں اتنی ہی تیز ہیں جتنی اس کی سرخ ثقافت جوش و جذبے اور طاقت سے بھرپور ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’سرخ ثقافت کتابوں میں لکھی ہوئی تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ قوت ہے جو قومی شناخت، استقامت اور جذبے کو تشکیل دیتی ہے۔‘‘ ان کے نزدیک جنگ گانگ شان، جسے ’’چینی انقلاب کی جنم بھومی‘‘ کہا جاتا ہے، چینی عوام کی آزادی اور خودمختاری کی جدوجہد کی روحانی علامت ہے۔

اعوان کے نزدیک چین اور پاکستان کے درمیان رنگوں کے حوالے سے ایک گہری ’’ہم آہنگی‘‘ پائی جاتی ہے جو طویل عرصے سے ثقافتی روایات اور روحانی اقدار میں رچی بسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان میں بھی لوگ سرخ رنگ کو پسند کرتے ہیں۔ دلہنیں سرخ عروسی لباس پہنتی ہیں جو خوشی، جذبے اور زندگی کی علامت ہوتا ہے۔‘‘ ان کا ماننا ہے کہ سرخ رنگ سے یہ مشترکہ وابستگی دونوں ممالک کے عوام کے درمیان جذباتی ہم آہنگی کی مضبوط بنیاد بن چکی ہے۔

رواں سال اپریل میں چین کے دورے میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے خصوصی طور پر شاؤ شان جا کر ماؤ زے دونگ کے مجسمے پر خراج عقیدت پیش کیا۔ اعوان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی قومی آزادی اور عوامی نجات کے لئے عظیم جدوجہد ہو یا نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف پاکستان کی تحریک آزادی، دونوں میں آزادی اور خود انحصاری کے لئے غیر متزلزل عزم اور قوم و عوام کے لئے قربانی کے اعلیٰ جذبے کی جھلک ملتی ہے۔‘‘

اس روحانی ہم آہنگی کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے کے لئے اعوان چینی سکالرز کے ساتھ مل کر ریڈر آن دی انٹرنیشنل کمیونیکیشن آف ریڈ کلچر نامی دو لسانی کتاب مرتب کر رہے ہیں، توقع ہے کہ اسے رواں سال کی دوسری ششماہی میں چین اور پاکستان میں بیک وقت شائع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ باہمی تفہیم کا ایک پل ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ رواں سال ستمبر میں اسلام آباد میں چینی سرخ ثقافت پر ایک بڑی نمائش منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم جنگ گانگ شان کی ’چنگاری‘ اسلام آباد لائیں گے تاکہ پاکستانی عوام چین کی ترقی کے پس پردہ روحانی قوت کو دیکھ سکیں۔‘‘

اعوان چینی سکالرز کے ساتھ مل کر "سرخ ثقافت کی بین الاقوامی ترسیل کے حوالے سے دو لسانی ریڈر” مرتب کرنے میں تعاون کر رہے ہیں۔(شِنہوا)

اعوان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’سی پیک ترقی کو آگے بڑھاتا ہے لیکن ثقافتی اور روحانی تبادلے ہماری دوستی کو مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ سرخ ثقافت کی کوئی سرحد نہیں۔ یہ آزادی کی جستجو، غیر متزلزل یقین اور مسلسل جدوجہد کا ایک عالمگیر اظہار ہے۔ چین-پاکستان دوستی سی پیک کی بنیاد ہے اور سرخ ثقافت اسے فولادی مضبوطی اور روحانی گرمجوشی دونوں عطا کرتی ہے۔‘‘

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں