آسٹریلوی کاروباری اداروں نے آئندہ منعقد ہونے والی چوتھی ’’چائنہ انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو‘‘ میں شرکت کے لئے اپنی تیاری اور آمادگی کا اظہار کر دیا ہے تاکہ وہ رسد کے نظام میں تعاون کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ آسٹریلیا اس عالمی نمائش میں اعزازی مہمان ملک کا کردار ادا کر رہا ہے۔
جمعرات کے روز سڈنی میں منعقدہ سی آئی ایس سی ای روڈ شو میں آسٹریلیا کی کاروباری کمپنیوں، تنظیموں اور صنعتی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ یہ تقریب اس اعلان کے ایک دن بعد ہوئی جس میں چائنہ کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ (سی سی پی آئی ٹی) اور آسٹریلین ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کمیشن (آسٹریڈ) نے بتایا تھا کہ آسٹریلوی حکومت نے چوتھی سی آئی ایس سی ای میں اعزازی مہمان ملک بننے کی دعوت قبول کر لی ہے۔
سی سی پی آئی ٹی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی سی آئی ایس سی ای ملکوں کی سطح کی وہ پہلی عالمی نمائش ہے جسے رسد کے نظاموں کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے۔
سی سی پی آئی ٹی اور آسٹریڈ کے مطابق اگرچہ آسٹریلوی کاروبار اس نمائش کے گزشتہ ایڈیشنز میں حصہ لیتے رہے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہوگا کہ آسٹریلیا قومی سطح کے اعزازی مہمان ملک کے طور پر اس میں شرکت کرے گا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): آرنلڈ جورج، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایکسپورٹ کونسل آف آسٹریلیا
"چین کے ساتھ تعلقات اس لئے بھی قابلِ فخر ہیں کیونکہ اس سے کئی طرح کے فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس طرح کی تقریبات کے بھرپور حامی ہیں جو رسد کے نظام کو مضبوط بنانے کے مواقع اجاگر کرتی ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب صورتحال غیر یقینی ہو۔ ہمیں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کی ضرورت ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ چین یہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): جیمز ہیوئی، منیجنگ ڈائریکٹر، چائنہ ویسٹ برج ایڈوائزری سروسز
"اس نمائش میں شرکت آسٹریلوی کاروباروں کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ یہاں انہیں چینی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کے بہت زیادہ مواقع ملیں گے۔ وہ ایسی نئی مصنوعات اور جدید ٹیکنالوجیز سے بھی متعارف ہوں گے جن میں سے کچھ حیران کن ہیں اور شاید ایسی بھی ہیں کہ جن کے بارے میں انہوں نے پہلے کبھی کچھ سنا ہی نہ ہو۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): نیڈ ایکنز ڈاکس، سربراہ، سکول آف فوٹو وولٹک اینڈ ری نیوایبل انرجی انجینئرنگ، یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (یو این ایس ڈبلیو سڈنی)
"میرے لئے یہ نمائش بہت متاثر کن تھی۔ یہ صرف ابھرتی ہوئی چینی انجینئرنگ کمپنیوں ہی نہیں بلکہ اُن دیگر ممالک سے بھی رابطے کا ایک موقع بنی جو چین کے ساتھ رسد کے نظام قائم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جسے اپنا کر ہم ایک دوسرے سے تعاون کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں دیگر ممالک کو بھی چاہئے کہ اس سے سیکھیں۔ رسد کے نظام سے متعلق تمام ممالک کے لئے یہ ایک شاندار موقع ہے کہ وہ جا کر دیکھیں کیا کچھ ممکن ہے۔”
چوتھی ’’چائنہ انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو‘‘ 22 سے 26 جولائی تک بیجنگ میں منعقد ہوگی۔ اس کی تمام تر تیاریاں شیڈول کے مطابق جاری ہیں۔
آسٹریلین ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کمیشن (آسٹریڈ) نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسمارٹ انرجی کونسل کی قیادت میں آسٹریلوی وفد اسمارٹ اور صاف توانائی کے شعبوں میں ملکی صلاحیتوں کو اجاگر کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسمارٹ زراعت، صحت کی دیکھ بھال اور خدمات جیسے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجیز اور پائیدار حل بھی پیش کئے جائیں گے۔
سڈنی، آسٹریلیا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


