ایتھنز (شِنہوا) یونان کی پارلیمنٹ نے ایسی قانون سازی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت یکم جنوری 2027 سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لئے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی عائد ہو گی۔
یونانی میڈیا کے مطابق اس قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے اقدامات نافذ کرنا ہوں گے تاکہ پابندی پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ان تقاضوں پر پورا نہ اترنے والی کمپنیوں کو ان کے عالمی سالانہ کاروبار کے حجم کے 6 فیصد تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جمعرات کی شام ووٹنگ سے قبل پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت کے وزیر دیمتریس پاپاسترگیو نے اس اقدام کو ضروری قرار دیا جو یورپی یونین (ای یو) کے موجودہ ضابطہ جاتی نظام سے مطابقت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’آج کچھ بھی نہ کرنا اور یورپ کے ایک مثالی قانون کا انتظار کرنا بہت آسان ہوتا لیکن چیلنج ہمارے سامنے ہے۔ بچے ہر روز انٹرنیٹ میں ڈوبتے جا رہے ہیں اور میرا ماننا ہے کہ ایک ذمہ دار حکومت کو وہ کرنا چاہیے جس کی وہ پابند ہے۔‘‘
وزیر مملکت آکیس سکیرتسوس نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو اس طرح ضابطوں کے تابع بنایا جانا چاہیے کہ بچوں کو محفوظ ماحول میں پروان چڑھنے کی زیادہ آزادی مل سکے۔

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں لی گئی تصویر میں ایک موبائل فون پر ایموجیز دکھائی دے رہے ہیں۔(شِنہوا)
دوسری جانب وزیر صحت اڈونیس جارجیادیس نے ڈیجیٹل لت کو صحت عامہ کا ایک چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال بچوں کی نیند، توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت، سماجی تعلقات اور نفسیاتی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
یہ قانون سازی بچوں کو نقصان دہ آن لائن مواد، سائبر ہراسانی اور ایسے پلیٹ فارمز کی خصوصیات سے محفوظ رکھنے کے لئے حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جو ضرورت سے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یونان یورپی یونین کا پہلا رکن ملک بننے کا ہدف رکھتا ہے جو اس نوعیت کی پابندی متعارف کرائے گا۔
فرانسیسی پارلیمنٹ نے 21 جولائی کو سوشل میڈیا کے استعمال سے وابستہ خطرات سے نابالغوں کو محفوظ رکھنے کے لئے قانون سازی منظور کی تھی۔ تاہم فرانس کی آئینی کونسل نے 14 اگست کو فیصلہ دیا کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے لئے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی عائد کرنے والی اس قانون سازی کی اہم شق غیر آئینی ہے۔


