بیجنگ/استنبول (شِنہوا) رواں سال لانگ مارچ کی کامیابی کے 90 سال مکمل ہونے اور چین و ترکیہ کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ ترکیہ کے محققین، طلبہ اور سیاسی شخصیات کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی فوجی سفر چین کی انقلابی تاریخ اور ترقی کے راستے کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید گہرا کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
چینی انقلاب کے دوران کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ(سی پی سی) کی قیادت میں ریڈ آرمی بنیادی طور پر کسانوں اور مزدوروں کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے سپاہیوں پر مشتمل تھی۔1934سے1936کےدوران اس فوج نے کومنتانگ کی افواج کے محاصرے سے نکلنے کے لئے تقریباً12ہزار 500کلومیٹر کا دشوار سفر طے کیا، جو بعد ازاں لانگ مارچ کے نام سے مشہور ہوا۔
چین اور ترکیہ کے درمیان ثقافتی تبادلوں کے ماہر ترک محقق مراد تیمور نے کہا کہ ترکیہ میں لانگ مارچ کو مزید پہچان ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک تاریخی مارچ نہیں تھا بلکہ اس نے سنگین چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے عزم، تنظیمی صلاحیت اور تزویراتی سوچ کا مظاہرہ بھی کیا۔
تیمور نے مزید کہا کہ لانگ مارچ کا عظیم جذبہ ترک عوام کو یہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ چین نے مشکلات پر کیسے قابو پایا اور اپنی ترقی کا منفرد راستہ کیسے اختیار کیا۔

چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو کی شی شوئی کاؤنٹی میں لوگوں کو جنگ چھنگ گانگ پو کے تاریخی انقلابی مقام کا دورہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔(شِنہوا)
چین میں زیر تعلیم ترک طلبہ کے لئے بھی لانگ مارچ ایسے اسباق پیش کرتا ہے جو ان کے اپنے تجربات سے مطابقت رکھتے ہیں۔
نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی میں اطلاقی معاشیات میں ماسٹرز کی طالبہ برفین ادی یامان نے کہا کہ لانگ مارچ کے بارے میں سیکھنے سے ثابت قدمی کی اہمیت کے بارے میں ان کی سمجھ مزید گہری ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چین میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران انہیں زبان کی رکاوٹوں اور گھر کی یاد آنے سمیت مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چینی اور ترک کاروباری اداروں کے درمیان تبادلوں میں شرکت اور چین کے شمال مغربی شہر شی آن میں ایک لاجسٹکس کمپنی میں کام کرنے سے انہیں چینی معاشرے کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔
ادی یامان نے کہا کہ ’’چاہے کوئی ملک ہو یا فرد، مشکلات کا سامنا کرتے وقت ہمت اور ثابت قدمی ضروری ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ چین اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی تعاون اور نوجوانوں کے تبادلوں میں اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش مند ہیں۔
ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے ترکیہ-چین بین الپارلیمانی دوستی گروپ کے رکن یوکسل منصور کلنچ نے کہا کہ چین کے ترقیاتی ماڈل کو ترکیہ میں خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے، خصوصاً مشترکہ خوشحالی، انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی اور مادی و روحانی ترقی میں توازن قائم رکھنے کے حوالے سے چین کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔
کلنچ نے کہا کہ چین اور ترکیہ کے پاس دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے نئے مواقع موجود ہیں۔ اس سال ترکیہ بھر میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ کے سلسلے میں تقریبات منعقد کی گئی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تبادلوں کو وسعت دینے میں دلچسپی کی عکاسی کرتی ہیں۔
ثقافتی تبادلوں کو دوطرفہ تعلقات کی ایک اہم بنیاد قرار دیتے ہوئے انہوں نے اقتصادی اور تکنیکی تعاون کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ اور ثقافت کے شعبوں میں بھی قریبی تعاون پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوششیں ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے اور چین۔ترکیہ تعلقات کی طویل مدتی ترقی میں مدد دے سکتی ہیں۔


