ہانگ کانگ (شِنہوا) ایشیا بحرالکاہل خطے کے وزرائے خزانہ اس ہفتے ہانگ کانگ میں جمع ہوئے، جہاں انہوں نے بڑھتی ہوئی عالمی غیر یقینی صورتحال اور ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلیوں کے تناظر میں ترقی کو فروغ دینے کے لئے متعدد امور پر وسیع اتفاق رائے حاصل کیا۔
ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تعاون (اپیک) کےتحت وزارتی سطح کے اہم اجلاسوں میں سے ایک، اپیک وزرائے خزانہ اجلاس کا اس سال موضوع ’’مشترکہ خوشحالی کے لئے ایشیا بحرالکاہل برادری کی تعمیر‘‘تھا۔
اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے چین کے وزیر خزانہ لان فو آن نے موجودہ عالمی صورتحال کے چیلنجز اور مواقع دونوں کو اجاگر کیا اور اپیک پر زور دیا کہ وہ معاشی پالیسیوں میں ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں زیادہ موثر کردار ادا کرے۔
لان نے کہا کہ چین ایشیا بحرالکاہل کی معیشتوں کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو بہت اہمیت دیتا ہے اور مالیاتی و بجٹ تعاون کو گہرا کرنے اور علاقائی اقتصادی انضمام کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔
علاقائی اور وسیع تر معاشی صورتحال کے پیش نظر مندوبین نے دو روزہ اجلاس کے دوران اہم پالیسی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا اور قابل عمل نتائج کے سلسلے پر اتفاق کیا۔
ان نتائج میں وزرائے خزانہ کا مشترکہ اعلامیہ، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی مالی اعانت سے متعلق پالیسی بیان اور اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے کے لئے مالیاتی پالیسی کے پہلوؤں پر ایک رپورٹ شامل ہیں۔
ہانگ کانگ کے چینی جنرل چیمبر آف کامرس کے چیئرمین جوناتھن چھوئی نے کہا کہ ’’یہ نتائج پالیسی کی سمت متعین کرنے کے ساتھ ساتھ قابل عمل مثالیں بھی فراہم کرتے ہیں، جس سے شریک معیشتوں کو پالیسی سازی کے لئے ایک موثر لائحہ عمل میسر آتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ حاصل ہونے والا اتفاق رائے آئندہ اپیک اقتصادی رہنماؤں کے اجلاس میں مزید اہم پیش رفت کی بنیاد رکھنے میں مدد دے گا۔
اجلاس میں شریک اپیک کے وزرائے خزانہ نے عام گھرانوں کو درپیش مسائل پر توجہ مرکوز رکھی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عوام پر سرمایہ کاری گھریلو کھپت میں اضافے، اندرون ملک طلب کو فروغ دینے اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے اقتصادیات کے پروفیسر حہ گو جون نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے معاونت کو ترقی کی رفتار بڑھانے سے منسلک کرنا اجلاس کے نتائج کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہے۔
حہ نےکہا کہ ’’عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق پالیسیاں محض ترقی کے ثمرات تقسیم کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ یہ خود ترقی کی بنیاد بھی بن سکتی ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ان پالیسیوں کی اہمیت اس بات میں ہے کہ انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کو وسیع تر معاشی ترقی کے ڈھانچے میں موثر انداز میں شامل کیا جائے۔

تصویر میں چین کے جنوبی ہانگ کانگ کا ایک کنٹینر ٹرمینل دکھایا گیا ہے۔ (شِنہوا)
ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی مالی اعانت کے حوالے سے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مضبوط ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ معاشی استحکام اور مالیاتی پائیداری کی بنیاد ہے۔ رکن معیشتوں کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ مالی وسائل کی کمی پوری کرنے کے لئے سرکاری اور نجی شعبوں کے ساتھ ساتھ کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں سے بھی وسائل متحرک کریں۔
چائنہ مرچنٹ سپورٹ ہولڈنگز کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ کے نائب چیئرمین یان گانگ نے کہا کہ پالیسی بیان میں تجویز کردہ مالی اعانت کے فروغ دینے والے طریقے، جن میں مالیاتی لیزنگ اور اثاثوں کو سیکیورٹیز میں تبدیل کرنا شامل ہیں، ایشیا بحرالکاہل خطے میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں نجی شعبے اور طویل مدتی سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کی شرکت کو فروغ دیں گے۔
ایچ ایس بی سی کے ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے شریک چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ لیاؤ نے اپیک کی معیشتوں کو مالی اعانت فراہم کرنے میں ہانگ کانگ کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔
لیاؤ نے کہا کہ ’’ہانگ کانگ نے جدید مالیاتی ذرائع کے استعمال میں وسیع تجربہ حاصل کیا ہے اور وہ ایک منفرد رابطہ کار کی حیثیت سے اپنے کردار کو بروئے کار لاتے ہوئے علاقائی سطح پر جدید مالیاتی ذرائع کے فروغ میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘
ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے کہا کہ یہ اجلاس ہانگ کانگ کے لئے اپنی مالیاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ’’اپیک کے چینی سال‘‘میں خدمات انجام دینے کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہانگ کانگ اس اجلاس کو خطے بھر میں تجارتی اور اقتصادی تعاون کو گہرا کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم کے طور پر فعال انداز میں استعمال کرے گا۔


