سیئول(شِنہوا)جمہوریہ کوریا کی وزارت دفاع نے جمعے کے روز عوامی جمہوریہ کوریا (ڈی پی آر کے) کو باضابطہ طور پر فوجی مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد زمینی فوجی حد بندی لائن (ایم ڈی ایل) کے درست مقام کی باہمی تصدیق، فوجی رابطے کے ذرائع کی بحالی اور سرحدی علاقوں میں اچانک جھڑپوں کو روکنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
جمہوریہ کوریا کی وزارت قومی دفاع نے ایک بیان میں کہاہے کہ ضرورت پڑنے پر اقوام متحدہ کی کمان کو شامل کرتے ہوئے سہ فریقی اجلاس بھی منعقد کیا جا سکتا ہے۔ بیان کے مطابق مذاکرات کی تاریخ اور مقام سمیت دیگر تفصیلات سرحدی گاؤں پان مون جوم کے ذریعے طے کی جا سکتی ہیں۔
5اکتوبر کو جمہوریہ کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ 21 ستمبر کو غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ)میں ہونے والا دھماکہ عوامی جمہوریہ کوریا کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے باعث ہوا، جس میں جمہوریہ کوریا کے 3 فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
وزارت نے خبردار کیا کہ دونوں کوریاؤں کے درمیان فوجی حد بندی لائن پر کشیدگی کے پیش نظر اگر موجودہ صورت حال کو حل کئے بغیر جاری رہنے دیا گیا تو مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی پیش گوئی کرنا مشکل ہوگا۔
وزارت نے وضاحت کی کہ مخصوص اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں دونوں کوریائی ممالک کے فوجی اپنے تصور کے مطابق فوجی حد بندی لائن (ایم ڈی ایل) کے مقامات کی بنیاد پر کارروائیاں کریں گے، جس سے حادثاتی جھڑپوں کے مزید واقعات کا امکان بڑھ جائے گا۔
6 اکتوبر کو عوامی جمہوریہ کوریا کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ غیر فوجی علاقے میں بارودی سرنگ کا حالیہ دھماکہ جمہوریہ کوریا کی جانب سے گھڑا گیا ایک ’’ڈراما‘‘ تھا، جس کے بارے میں یکطرفہ طور پر فیصلہ کیا گیا۔
کورین سنٹرل نیوز ایجنسی نے وزارت خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ اس واقعے کی ذمہ داری عوامی جمہوریہ کوریا پر ڈالنے اور اس کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سیئول کی کوشش ایک سنگین اشتعال انگیزی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔


