ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکچین-یورپ مال بردار ٹرینوں کے سفر کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار...

چین-یورپ مال بردار ٹرینوں کے سفر کی تعداد ایک لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کر گئی

شین یانگ (شِنہوا) چین اور یورپ کے درمیان مال بردار ٹرین سروس نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار سفری دوروں کا سنگ میل عبور کر لیا۔ یہ اہم کامیابی یوریشیا کی تجارت کے لئے ایک قابل اعتماد لاجسٹکس راہداری کے طور پر اس سروس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور روایتی بحری راستوں میں رکاوٹیں عالمی ترسیلی ذرائع کے لئے چیلنج بن رہی ہیں۔

اس سنگ میل کے موقع پر جمعرات کی صبح تقریباً 11 بج کر 30 منٹ پر چین کے شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ کے شہر شین یانگ کے پوحہ سٹیشن سے ماسکو جانے والی ایک مال بردار ٹرین روانہ ہوئی۔ 2011 سے اب تک چین اور یورپ کے درمیان مال بردار ٹرین سروس کے ذریعے منتقل کئے جانے والے سامان کی مالیت 560 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یوریشیا کی زمینی تجارتی راہداری ایک محدود متبادل سے ترقی کرتے ہوئے علاقائی لاجسٹکس کے ایک اہم ستون میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس تبدیلی کا اندازہ صرف ٹرینوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کے ذریعے منتقل کئے جانے والے سامان، ان کی منزلوں اور بروقت ترسیل کے اعتبار سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

اس سروس میں اضافہ اچانک نہیں بلکہ مسلسل ہوا ہے۔ قومی ترقی و اصلاحات کمیشن (این ڈی آر سی) کے مطابق سالانہ سفری دوروں کی تعداد 2016 میں ایک ہزار 702 سے بڑھ کر 2025 میں 2 ہزار 22 ہو گئی جو سالانہ اوسطاً 30 فیصد سے زیادہ اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ایک اہم منصوبے اور نمایاں برانڈ کے طور پر چین اور یورپ کے درمیان مال بردار ٹرین سروس نے پورے یوریشیا میں ایک جامع لاجسٹکس نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔ اسے ’’سٹیل کی اونٹوں والا تجارتی کارواں‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

این ڈی آر سی کے مطابق اس نیٹ ورک میں توسیع ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، بحری راستوں میں رکاوٹوں اور فضائی مال برداری کے زائد اخراجات نے مزید تجارتی کمپنیوں کو مستحکم اور موثر نقل و حمل کے ذرائع تلاش کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ ریل کے ذریعے مال برداری پر فضائی نقل و حمل کے مقابلے میں تقریباً پانچواں حصہ خرچ آتا ہے، جبکہ سمندری نقل و حمل کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی وقت لگتا ہے۔ اس کے علاوہ ریل کا نظام موسمی حالات اور روایتی بحری راستوں میں رکاوٹوں سے بھی نسبتاً کم متاثر ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ نیٹ ورک کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے۔ چین کے اندر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ٹرینوں کے لئے 96 مقررہ روٹس موجود ہیں جو ملک کے مغربی، وسطی اور مشرقی راہداریوں کے ساتھ 132 شہروں کو آپس میں ملاتے ہیں۔ بیرون ملک یہ نیٹ ورک 3 راستوں یعنی شمالی، وسطی اور جنوبی روٹس پر مشتمل ہے۔

چین کی قومی ریل کمپنی، چائنہ سٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ (چائنہ ریلوے) کے مطابق سمندر پار روٹس اب 26 یورپی ممالک کے 237 شہروں اور 12 ایشیائی ممالک کے 100 سے زائد شہروں تک پہنچ چکے ہیں جس سے یوریشیا کے بیشتر حصوں کا احاطہ ہو رہا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں