بیجنگ (شِنہوا) چین کی صارف منڈی میں خدمات اور سمارٹ مصنوعات کے شعبوں میں ترقی کے نئے امکانات سامنے آ رہے ہیں۔ یہ رجحان ملک میں اخراجات کے بدلتے ہوئے انداز کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ چین اندرون ملک طلب کو مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔
چین کی وزارت تجارت نے بتایا کہ 2026 کے پہلے 9 ماہ کے دوران کھپت ملک کی اقتصادی ترقی میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا عنصر رہی، جس کا مجموعی اقتصادی نمو میں حصہ 46.7 فیصد رہا۔ یہ شرح سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں 0.7 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔
خدمات پر صارفین کے اخراجات ایک نمایاں شعبے کے طور پر ابھرے ہیں۔ اس عرصے کے دوران خدمات کی پرچون فروخت میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ ہوا جو اشیاء کی پرچون فروخت کی شرح نمو سے 4 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ یہ تبدیلی چین میں کھپت کے ڈھانچے میں مسلسل ارتقا کو ظاہر کرتی ہے۔
ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات بھی طلب کے نئے ذرائع بن رہی ہیں۔ وزارت تجارت کی نگرانی میں شامل بڑے آن لائن پلیٹ فارمز پر سمارٹ چشموں کی فروخت کی مالیت میں پہلے 9 ماہ کے دوران سالانہ بنیاد پر 110 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں جسمانی حرکت میں مدد دینے والے ایکسوسکیلیٹن آلات کی فروخت میں 46.4 فیصد جبکہ مجسم ذہین روبوٹس کی فروخت میں 22.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گوتائی ہائی تونگ سیکیورٹیز نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس چشمے ابتدائی تجرباتی مرحلے سے آگے بڑھ کر بڑے پیمانے پر صارفین میں مقبولیت حاصل کرنے کی جانب گامزن ہیں کیونکہ یہ صنعت ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
ماحول دوست اور صحت سے متعلق مصنوعات کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ وزارت تجارت کی نگرانی میں شامل بڑے آن لائن پلیٹ فارمز پر نامیاتی خوراک کی فروخت میں اس عرصے کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ستمبر میں نئی توانائی سے چلنے والی مسافر گاڑیوں کی ریٹیل سیل میں مارکیٹ کا حصہ 67 فیصد تک پہنچ گیا۔


