دوحہ (شِنہوا) قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران خطے کی تازہ ترین صورت حال اور کشیدگی کم کرنے کے لئے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعاون اور اپنی قریبی تزویراتی شراکت داری کا جائزہ لیا جبکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مسلسل سفارتی کوششوں اور مشترکہ روابط کے ذریعے علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے طریقوں پر بھی گفتگو کی۔
گفتگو کے دوران قطری وزیر خارجہ نے ان تمام سفارتی کوششوں اور اقدامات کے لئے قطر کی حمایت کا اعادہ کیا جن کا مقصد ایسا حل تلاش کرنا ہے جو سمندری جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنائے اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لئے ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک الگ بیان میں کہا کہ مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز کے راستے قطر کی سلامتی اور آزادانہ بحری آمدورفت کے تحفظ کے لئے واشنگٹن کے عزم کا اعادہ کیا۔
28 فروری کو ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید سخت کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کی ملکیت یا ان سے وابستہ جہازوں کی محفوظ گزرگاہ روک دی تھی۔ یہ اقدام ایرانی سرزمین پر دونوں ممالک کے مشترکہ حملوں کے بعد کیا گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت امریکی حکام دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ آبی گزرگاہ کھلی ہے، امریکی افواج اس پر کنٹرول رکھتی ہیں اور اس راستے سے تیل کی نقل و حمل جاری ہے۔


