ہنوئی (لارڈ میڈیا): ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں درختوں کی تیز خوشبو شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔ حکام نے سیکڑوں درختوں کی شاخیں کاٹنے اور بعض کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہنوئی میں ‘ہوا سوا’ یا ‘ملک فلاور’ کہلانے والے درخت اپنی میٹھی خوشبو کے لیے مشہور ہیں اور شام کے وقت تیز خوشبو چھوڑتے ہیں۔
شہریوں کی شکایات کے بعد حکام نے پانچ روزہ مہم کے دوران تقریباً 7 فیصد درختوں کی پھولوں والی شاخیں کاٹنا شروع کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ خوشبو اتنی تیز ہوتی ہے کہ انہیں سردرد اور مائیگرین کی شکایت ہونے لگتی ہے۔ تاہم بعض شہری اس فیصلے سے ناخوش ہیں اور درختوں کی خوشبو کو شہر کی خوبصورتی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ خوشبو زہریلی نہیں ہے، تاہم درختوں کے پولن سے بعض افراد کو الرجی ہو سکتی ہے۔


