لندن (شِنہوا) چین کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیتیں اس ملک کے ساتھ مغربی ممالک کے صنعتی تعاون کے طریقہ کار کو تبدیل کر رہی ہیں جس سے سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
برطانیہ کے سابق وزیر تجارت ونس کیبل نے حال ہی میں شِنہوا کو ایک انٹرویو دیا۔ کیبل ایک ماہر معاشیات بھی ہیں۔ انہوں نے چین کے اقتصادی مستقبل کے بارے میں امید کا اظہار کیا اور ماحول دوست ٹیکنالوجی اور طب کے شعبوں میں چین اور برطانیہ کے درمیان تعاون کے مواقع کو اجاگر کیا۔
کیبل نے کہا کہ ’’جب 30 یا 40 سال پہلے مغربی ممالک کے لوگ چین جاتے تھے تو چین اپنی سپلائی چینز میں ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دیتا تھا۔ اب چین ٹیکنالوجی کے بہت سے شعبوں میں کہیں آگے نکل چکا ہے،‘‘ جس کے نتیجے میں مغربی ممالک چینی سرمایہ کاری اور تکنیکی مہارت حاصل کرنے کے لئے تیزی سے کوششیں کر رہے ہیں۔
کیبل نے کہا کہ یہ تبدیلی گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران چین کی غیر معمولی تکنیکی ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔
چین کے اقتصادی مستقبل کے بارے میں پوچھے جانے پر کیبل نے کہا کہ ’’میں پرامید ہوں، ‘‘ تاہم انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ ملک کو اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے۔
کیبل نے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے چین کی جاری کوششوں کا خیرمقدم کیا، خصوصاً نئی معیاری پیداواری قوتوں کو ترقی دینے کے اقدامات کو سراہا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات طلب کے متبادل ذرائع فراہم کر رہے ہیں۔
مستقبل کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کیبل نے گرین ٹیکنالوجی اور طب کو چین اور برطانیہ کے درمیان تعاون کے 2 انتہائی امید افزا شعبے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحول دوست ٹیکنالوجی میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے حل شامل ہیں جن میں صاف اور زیادہ موثر توانائی، بیٹریاں اور برقی گاڑیاں شامل ہیں جبکہ طب ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ’’دونوں ممالک کے صحت عامہ کے مضبوط نظام اور حیاتیاتی علوم میں جدیدیت کی نمایاں صلاحیتیں موجود ہیں۔‘‘


