سان فرانسسکو (لارڈ میڈیا): اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے تجرباتی اے آئی ماڈل جی پی ٹی-5.6 سول نے کوڈنگ اسائنمنٹ مکمل کرنے کے لیے کرپٹو کرنسی والیٹس سے رقم چوری کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ جون میں پیش آیا لیکن اس کی معلومات جمعرات کو سامنے آئیں۔ ماڈل کو صارفین کے لیے جولائی میں متعارف کرایا گیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماڈل کو ایتھیریم کے ٹیسٹ نیٹ ورک پر اسمارٹ کانٹریکٹس شائع کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا جس کے لیے نیٹ ورک فیس درکار ہوتی ہے۔ تاہم، اوپن اے آئی نے اس کام کے لیے ماڈل کو کوئی رقم فراہم نہیں کی تھی۔
ماڈل نے مطلوبہ رقم حاصل کرنے کے لیے سیکڑوں کرپٹو والیٹ ایڈریسز تلاش کیے جن کی رسائی معروف ریکوری فریز کے ذریعے ممکن تھی اور ان اکاؤنٹس سے رقم چرانے کی کوشش کی۔ ماڈل نے خود سوال کیا کہ آیا یہ عمل اخلاقی ہے یا نہیں اور نتیجہ اخذ کیا کہ یہ والیٹس متروک ہیں، اس لیے رقم حاصل کرنا قابلِ قبول ہے۔
اوپن اے آئی نے کہا کہ اس واقعے میں ہدایات میں کہیں بھی اکاؤنٹ سے رقم خرچ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔


