تہران (لارڈ میڈیا): ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی نئی حکمت عملی اپنائی ہے جس کا مقصد نومبر میں ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات پر اثر انداز ہونا ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی اس نئی پالیسی کا مقصد تیل کی قیمتوں کو بلند ترین سطح پر رکھنا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت کی منظوری سے اس حکمت عملی کو اپنایا گیا ہے جس کے تحت حملوں کی نوعیت میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطہ جلد ہی آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق تہران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تیل کی قیمتوں میں کمی کی اجازت نہیں دے گا اور اب تجارتی جہازوں کو خلیج عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں میں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی فوجی اہلکاروں نے بتایا کہ ایران لکڑی کی چھوٹی کشتیوں میں غیر مسلح اسپاٹرز کے ذریعے امریکی بحریہ اور تجارتی جہازوں کی نشاندہی کر رہا ہے۔ حال ہی میں ایک مشکوک کشتی کی نشان دہی کے بعد امریکی فورسز نے اسے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی سمندری ادارے اور برطانوی بحریہ کے سیکیورٹی اداروں کی رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز اور اطراف کے سمندری راستوں میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز پر ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔


