بیجنگ (شِنہوا) چین کے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ادائیگیوں کی بڑی امریکی کمپنی ویزا کے ذیلی ادارے کی جانب سے چین میں بینک کارڈ کلیئرنگ ادارہ قائم کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔ یہ اقدام چین کے مالیاتی شعبے کی مزید وسعت کی جانب ایک پیش رفت ہے۔
پیپلز بینک آف چائنہ (پی بی او سی) کے مطابق ویزا انفارمیشن ٹیکنالوجی (بیجنگ) کمپنی لمیٹڈ کو ایک سال کے اندر ادارے کے قیام کی تیاریاں مکمل کرنا ہوں گی جس کے بعد وہ کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کے لئے درخواست دے سکتی ہے۔
بینک کارڈ کلیئرنگ کے کاروبار کا لائسنس پیپلز بینک آف چائنہ اور نیشنل فنانشل ریگولیٹری ایڈمنسٹریشن کی جانب سے مشترکہ منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔
سنگہوا یونیورسٹی کے پی بی سی سکول آف فنانس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ژو ژین نے کہا کہ ویزا کو ادارے کے قیام کی تیاریوں کے لئے منظوری دینا چین کے مالیاتی شعبے کو وسعت دینے کے سلسلے میں ایک اور مثبت اقدام ہے۔ یہ اعلیٰ معیار کے ساتھ معیشت کو مزید وسعت کے عزم اور اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
ژو نے مزید کہا کہ بینک کارڈ کلیئرنگ ادارے ادائیگیوں کے نظام میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ کارڈ جاری کرنے والے اداروں اور کارڈ کے ذریعے ادائیگی وصول کرنے والے اداروں کو آپس میں منسلک کرتے ہیں اور ادائیگیوں کے نیٹ ورک کو کارڈ صارفین اور تاجروں تک وسعت دیتے ہیں۔
دنیا بھر میں بینک کارڈز اب بھی نقد رقم کے بغیر ادائیگی کے اہم ذرائع میں شامل ہیں۔ 2025 کے اختتام تک دنیا کے بڑے برانڈز کے تحت زیر استعمال بینک کارڈز کی تعداد 19 ارب سے تجاوز کر چکی تھی۔
ویزا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ریان مک انرنی نے کہا کہ ہماری درخواست کو تیاریوں کے لئے منظوری ملنا چین کے ساتھ ویزا کی طویل وابستگی میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ ویزا گزشتہ 40 سال سے زیادہ عرصے کے دوران چین کے تیزی سے ترقی کرتے ادائیگیوں کے نظام میں فعال کردار ادا کرتی رہی ہے۔
ویزا کمپنی نے اس منظوری کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ چین دنیا کی جدید ترین اور متحرک ڈیجیٹل ادائیگیوں کی منڈیوں میں سے ایک ہے جہاں جدت پر مبنی نظام موجود ہے اور مالیاتی شعبے کو مزید آزاد بنانے کے لئے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔


