جکارتہ (شِنہوا) انڈونیشیا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی برائن یولیارتو نے کہا ہے کہ انڈونیشیا اور چین فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹی وی ای ٹی) کے شعبے میں تعاون کو تیز کر رہے ہیں تاکہ اسے انڈونیشیا کے قومی ترقیاتی اہداف اور صنعتوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
شِنہوا کو ایک انٹرویو میں برائن نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون تیزی سے فروغ پا رہا ہے جس کے ذریعے انڈونیشیا کے طلبہ کو ان کی ضروریات کے مطابق مہارتوں اور صلاحیتوں میں اضافے کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کئی فنی و پیشہ ورانہ جامعات صنعتوں اور چین کی جامعات کے ساتھ مضبوط تعاون رکھتی ہیں۔ اس اشتراک سے طلبہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
تعلیم اور صنعت کے درمیان یہ ہم آہنگی انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کے قومی ترقیاتی ایجنڈے ’’آستا چیتا‘‘(8 قومی عزائم) کی براہ راست معاون ہے۔ اس ایجنڈے میں غذائی تحفظ، توانائی کا تحفظ، الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز اور معدنیات کی مقامی سطح پر مزید پروسیسنگ کو ترجیح دی گئی ہے۔
برائن نے کہا کہ انڈونیشیا میں چینی کمپنیوں کی موجودگی بڑھنے کے ساتھ ملک کو امید ہے کہ یہ صنعتیں مقامی پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو فعال طور پر روزگار فراہم کریں گی۔
چین کے شہر تیانجن میں جمعرات کو شروع ہونے والی عالمی کانفرنس برائے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم 2026 کی ترقی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے برائن نے کہا کہ انڈونیشیا کا مقصد ادارہ جاتی شراکت داریوں کو وسعت دینا اور طلبہ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے تاکہ وہ چینی صنعتی معیار پر پورا اتر سکیں۔
مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، مشین لرننگ اور گرین انرجی جیسی عالمی تکنیکی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے برائن نے ٹیکنالوجی کے جدید ترین شعبوں میں چین کے نمایاں کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ چینی اداروں کے ساتھ شراکت داری انڈونیشیا کو تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی رجحانات کے مطابق اپنے تعلیمی نظام کو ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔
برائن نے بتایا کہ چینی کمپنیوں نے جدید آلات عطیہ کرکے اور مشترکہ تجربہ گاہیں قائم کرکے پہلے ہی انڈونیشیا کی جامعات کی معاونت کی ہے۔ مستقبل میں انڈونیشیا دوہری ڈگری کے پروگراموں، طلبہ و اساتذہ کے تبادلوں اور مہمان پروفیسرز کے پروگراموں کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔


