ہومتازہ ترینایئر بیس کے واقعے میں تہران کے ملوث ہونے کے الزام پر...

ایئر بیس کے واقعے میں تہران کے ملوث ہونے کے الزام پر ایران میں برطانوی سفیر کی طلبی

تہران (شِنہوا) ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں برطانوی سفیر ہیو شارٹر کو طلب کیا اور برطانوی حکومت کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا کہ ایران برطانوی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش میں ملوث تھا۔

وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق برطانوی سفیر کو وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے مغربی یورپ علی رضا یوسفی نے طلب کیا۔ یہ پیش رفت برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ ماہ رائل ایئر فورس فیئر فورڈ کے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا قوی امکان ہے۔

ملاقات کے دوران علی رضا یوسفی نے ایران کے حوالے سے برطانیہ کے "غیر ذمہ دارانہ اور تباہ کن” رویے پر شدید احتجاج کیا اور ایران مخالف برطانوی حکومت کے "بے بنیاد” الزام کو سختی سے مسترد کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی حکام دوسروں پر الزام تراشی اور بے بنیاد الزامات عائد کرکے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی "جارحیت” میں برطانیہ کی شرکت اور طویل عرصے سے ایران مخالف "دہشت گرد” گروہوں اور افراد کو پناہ دینے کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔

علی رضا یوسفی نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف اپنے الزامات کے حق میں دستاویزات اور شواہد جلد از جلد پیش کرے۔ بصورت دیگر تہران لندن کے ساتھ اپنے تعلقات پر سنجیدگی سے نظرثانی کرے گا جس کی ذمہ داری برطانوی حکومت پر عائد ہوگی۔

بیان کے مطابق برطانوی سفیر ہوگو شارٹر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ایران کا احتجاج اپنے ملک کے حکام تک پہنچائیں گے۔

27ستمبر کو برطانوی پولیس نے گلوسسٹرشائر میں رائل ایئر فورس فیئر فورڈ کے قریب پانچ افراد کو حراست میں لیا تھا۔ ان تمام افراد کی عمریں 20 سے 29 سال کے درمیان تھیں۔ انہیں دھماکہ خیز مواد اور دہشت گردی سے متعلق جرائم کے شبہ میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب پولیس کو اطلاع ملی کہ تین گاڑیاں فضائی اڈے کی جانب جاتی دیکھی گئی ہیں۔ اس اڈے کو امریکہ نے ایران پر حملے کرنے کے لئے استعمال کیا ۔

گاڑیوں سے ملنے والی اشیاء اور لندن میں ان افراد کے مختلف پتوں کی جانچ پڑتال کے بعد اگلے روز ان تمام افراد کو پولیس کی ضمانت پر رہا کیا گیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں