ہومتازہ تریننمیبیا کی یونیورسٹی میں پہلا روزگار میلہ، چینی زبان جاننے والے نوجوانوں...

نمیبیا کی یونیورسٹی میں پہلا روزگار میلہ، چینی زبان جاننے والے نوجوانوں کے لئے نئے امکانات روشن

نمیبیا کی یونیورسٹی (یو این اے ایم) نے ہفتے کے روز چینی زبان جاننے والے افراد کے لئے اپنے پہلے کیمپس روزگار میلے کا انعقاد کیا۔ میلے میں تقریباً 30 چینی کاروباری کمپنیوں کے علاوہ نمیبیا کے ایسے طلبہ اور فارغ التحصیل نوجوانوں نے شرکت کی جو اپنی لسانی مہارت کو روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

یہ میلہ یونیورسٹی آف نمیبیا کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ اور گلوبل ساؤتھ چائنہ افریقہ ریسرچ سینٹر نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا۔ یہ میلہ نمیبیا میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں اور مقامی ہنرمند افراد خصوصاً چینی زبان سیکھنے والوں اور چین میں تعلیم حاصل کرنے والے نمیبیا کے شہریوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا۔

میلے میں نجی اور سرکاری شعبوں کی کمپنیوں سمیت مختلف اداروں نے شرکت کی جن کا تعلق کان کنی، صنعت سازی، سیاحت، سڑکوں کی تعمیر اور سامان کی ترسیل سمیت مختلف شعبوں سے تھا۔ کمپنیوں کے نمائندوں نے اپنے کاروبار کا تعارف کرایا اور ملازمتوں، انٹرن شپس اور نئے فارغ التحصیل نوجوانوں کے لئے تربیتی پروگراموں کے بارے میں بتایا جن کے ذریعے مستقل ملازمت حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

زیرِ تعلیم طلبہ کے لئےبھی یہ میلہ ممکنہ آجر کمپنیوں کے بارے میں جاننے اور یونیورسٹی سے عملی زندگی میں قدم رکھنے کی تیاری کا موقع ثابت ہوا۔

ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کے علاوہ کمپنیوں کے نمائندوں نے بتایا کہ مقامی ملازمین اپنے چینی ساتھیوں کے ساتھ کام کرکے پیشہ ورانہ مہارتیں بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔

جی ایم ایس نمیبیا مائننگ سروسز میں شعبۂ انسانی وسائل کے سپرنٹنڈنٹ فابیانوس شیلونگو نے بتایا کہ ان کی کمپنی میں 550 سے زائد نمیبیائی ملازمین چینی ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): فابیانوس شیلونگو، سپرنٹنڈنٹ شعبہ انسانی وسائل، جی ایم ایس نمیبیا مائننگ سروسز
’’ہم یہاں اس تقریب میں شرکت کے لئے آئے ہیں تاکہ چینی زبان سیکھنے والے نمیبیا کے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میرے خیال میں وہ چینی ثقافت سے بھی واقف ہو سکیں گے۔ ہم انہیں یہ موقع بھی فراہم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جان سکیں کہ جی ایم ایس نمیبیا ملازمت اور پیشہ ورانہ ترقی کے حوالے سے انہیں کیا مواقع فراہم کر سکتی ہے۔‘‘

ونڈہوک سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں