آکرا (شِنہوا) گھانا میں غیر ملکی تجارت کے ایک رہنما نے چین کی جانب سے افریقی ممالک کے لئے زیرو ٹیرف کی سہولت کو ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔
گھانا کی درآمدات وبرآمدات ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو سیکرٹری سیمسن آساکی آونگوبٹ نے شِنہوا کو بتایا کہ زیرو ٹیرف کی یہ سہولت وہ موقع ہے جس کی گھانا کے برآمد کنندگان طویل عرصے سے خواہش رکھتے تھے۔
آونگوبٹ نے کہا کہ چین کی یہ پیشکش ہمارے لئے بہترین خبر ہے کیونکہ اس سے ہمیں بغیر ٹیرف چینی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے گھانا کو برآمدات کو مسابقتی بنانے کے لئے واضح اور موثر حکمت عملی تیار کرنا ہوگی تاکہ گھانا کے تاجر، چھوٹے اور بڑے صنعت کار اور زرعی پیداوار کرنے والے چینی منڈی تک رسائی حاصل کر سکیں اور ملک کے لئے برآمدات سے خاطر خواہ آمدنی حاصل ہو۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مزید برآمدات چینی منڈی تک پہنچیں، اس لئے اب جبکہ چین نے ہمیں زیرو ٹیرف کی سہولت دی ہے ہمیں بحیثیت ملک آپس میں مشاورت کرنی چاہیے اور چینی منڈی کو سمجھنا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ہماری کون سی مصنوعات کی وہاں زیادہ طلب ہے۔
آونگوبٹ نے کہا کہ چینی منڈی میں زیادہ طلب والی مصنوعات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرکے گھانا کے لوگ ایسی مصنوعات بھی تیار کر سکتے ہیں جن کی پیداوار میں انہیں تقابلی برتری حاصل ہو اور وہ چینی منڈی کی طلب پوری کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینی منڈی کی ضروریات اور صارفین کے رویوں کو سمجھنے سے گھانا کو ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے علاقائی سطح پر حکمت عملی اپنانے میں بھی مدد ملے گی۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں چین کے ہر صوبے کی مخصوص ضروریات کو سمجھنا ہوگا اور گھانا کے مختلف علاقوں کی صلاحیتوں اور تقابلی برتری کی نشاندہی کرنا ہوگی تاکہ ہم استعداد بڑھا سکیں اور تاجروں کو اس نئے موقع سے فائدہ اٹھانے کے طریقوں سے آگاہ کر سکیں۔
آونگوبٹ کے مطابق گھانا کے عوام چین کے ساتھ نئے تجارتی تعلقات کو سراہتے ہیں اوراس کے نتیجے میں ملکی معیشت اور عوام کی زندگی میں حقیقی فائدہ اور بہتری آنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چینی منڈی کے حجم اور درست حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے گھانا کو زیادہ مقدار میں برآمدات پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ چینی منڈی بہت بڑی ہے۔
آونگوبٹ کا کہنا تھا کہ اگر چین کا کوئی ایک صوبہ بھی گھانا سے مصنوعات خریدتا ہے تو یہ بھی ایک بڑی طلب ہوگی اس لئے اب گھانا کو اس طلب کو پورا کرنے کے لئے بھرپور محنت کرنی چاہیے۔
مئی میں چین نے اپنی زیرو ٹیرف سہولت کا دائرہ کار ان تمام 53 افریقی ممالک تک بڑھا دیا تھا جن کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات ہیں۔
گھانا میں چینی سفارتخانے کے مطابق چین گھانا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2025 میں گزشتہ سال کےمقابلے میں 19.3 فیصد بڑھ کر 14.1 ارب امریکی ڈالر رہی۔


