پشاور (لارڈ میڈیا): وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے حالیہ واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مزید جنازے نہیں اٹھا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پالیسی میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ آفریدی نے اپنے ویڈیو پیغام میں ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ جب دہشتگردوں کی آبادکاری کی پالیسی بنائی جا رہی تھی تو انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 22 سال سے ایک پالیسی نافذ ہے لیکن خیبرپختونخوا میں امن قائم نہیں ہو سکا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 2025-26 کے بجٹ میں پولیس کے لیے اضافی 35 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ پولیس کو جدید اسلحہ اور آلات کی فراہمی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی اداروں کو ادائیگیوں کے باوجود خیبرپختونخوا پولیس کو مطلوبہ آلات نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کردیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ 22 سال میں 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے باوجود خیبرپختونخوا میں امن قائم نہیں ہوسکا۔ انہوں نے پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ نے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر وفاقی وزراء کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے بیانات پاکستان کو تقسیم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنقید بند کمروں میں بننے والی پالیسیوں پر ہے جو عوام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔


