پشاور (لارڈ میڈیا): وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ رابطے کرنے والوں کے پاس اب بھی 7 دن کی مہلت ہے۔ انہوں نے پشاور میں سینئر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے علاج کے لیے ان کی بہنوں کی موجودگی ضروری ہے اور علاج ان کے اپنے ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ شفا اسپتال میں ہونا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی کا فائدہ دوسروں کو ہو رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر وہ وزارت اعلیٰ کی کرسی سے چلے بھی گئے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، اور اگر انہیں نااہل قرار دیا گیا تو بانی پی ٹی آئی خود متبادل کا انتخاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مسائل کو مذاکرات اور باہمی اتفاق سے حل کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے لانگ مارچ کی تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ وفاقی حکومت کو کچھ وقت دیا جائے۔ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی دعوت دی کہ اگر وہ ہمارے پاس آئیں تو انہیں خوش آمدید کہیں گے۔
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکن پرامن اور سیاسی ہیں، اور حکومت 9 مئی جیسے حالات پیدا کرکے پارٹی کارکنوں کے خلاف مقدمات بنانا چاہتی ہے۔


